1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران مداخلت نہ کرے، حملے جاری رہیں گے: سعودی تنبیہ

مقبول ملک12 اپریل 2015

سعودی عرب نے ایرانی حکومت کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ اسے ہمسایہ ملک یمن پر فضائی حملے بند کر دینے چاہییں۔ سعودی وزیر خارجہ نے تنبیہ کی ہے کہ حملے جاری رہیں گے اور ایران کو اس تنازعے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

https://p.dw.com/p/1F6fV
تصویر: DW Montage

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ بات سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے آج اتوار بارہ اپریل کے روز ملکی دارالحکومت ریاض میں اپنے فرانسیسی ہم منصب لاراں فابیوس کی موجودگی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا، ’’ایران ہم سے یمن میں لڑائی روکنے کا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے۔ ہم نے یمن پر حملوں کا فیصلہ وہاں کی جائز حکومت کی مدد کے لیے کیا۔ ایران یمن میں صورت حال کا نگران نہیں ہے۔‘‘ سعودی عرب کا الزام ہے کہ ایران حوثی شیعہ باغیوں کی مدد کر رہا ہے لیکن تہران حکومت ایسے الزامات کو رد کرتی آئی ہے۔

ایران نے ابھی حال ہی میں مطالبہ کیا تھا کہ سعودی سربراہی میں عسکری اتحاد یمن پر اپنے فضائی حملے بند کرے اور اس عرب ریاست میں پائے جانے والے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اپنائی جائے۔ اس پر ریاض حکومت نے نہ صرف تہران کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ یمنی باغیوں کے خلاف بھرپور ہوائی حملے جاری رکھے جائیں گے۔

ریاض سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان باغیوں کے خلاف سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ایک ترجمان کے مطابق حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے تیز رفتار کیے جا چکے ہیں۔ پہلے اگر اتحادی جنگی طیاروں کی طرف سے روزانہ ایسے قریب 35 حملے کیے جاتے تھے تو اب ہر روز ایسی فضائی کارروائیوں کی تعداد 120 تک ہوتی ہے۔ ترجمان کے مطابق انہی حملوں کی مدد سے اب تک باغیوں کی فضائی طاقت کا بھی تقریباﹰ خاتمہ کیا جا چکا ہے اور ان کے اتحادی، یمنی فوج کے باغی دستوں کو بھی زیادہ تر غیرفعال بنا دیا گیا ہے۔

Sanaa Jemen Luftangriff Saudi Arabien
باغیوں کے زیر قبضہ صنعاء میں ایک عمارت پر راکٹ حملے کے بعد کا منظرتصویر: Reuters/Khaled Abdullah

یہ درست ہے کہ یمن پر سعودی قیادت میں فضائی حملوں پر اقوام متحدہ اور روس سمیت کئی ملکوں، خاص کر ریڈ کراس جیسی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی طرف سے تنقید زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ ان فضائی حملوں کے باعث ہونے والی شہری ہلاکتیں، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا شدید نقصان اور انتہائی تشویشناک انسانی صورت حال ہے۔

یہ حالات متاثرہ یمنی علاقوں میں فوری امدادی کارروائیوں کے متقاضی ہیں۔ لیکن وہاں کوئی امدادی پروگرام اس وقت نہیں شروع نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ یہ حملے کم از کم عارضی طور پر ہی سہی، لیکن بند نہیں ہو جاتے۔ اس پس منظر میں اتحادی طیاروں نے تعز نامی صوبے میں حوثی شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پر اپنے حملے آج اتوار کے روز بھی جاری رکھے، جن میں مقامی امدادی کارکنوں کے بقول 15 باغی اور ان کے اتحادی یمنی فوجی ہلاک ہو گئے۔

ریاض میں سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں آج ان کے ہمراہ فرانسیسی ہم منصب لاراں فابیوس بھی موجود تھے، جنہوں نے کہا کہ اس بحران میں پیرس حکومت سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

اسی دوران سعودی وزارت دفاع نے پہلی مرتبہ دعویٰ کیا ہے کہ 26 مارچ کے روز یمن میں حوثی باغیوں پر فضائی حملوں کے آغاز سے لے کر آج اتوار کے دن تک بہت سے باغی مارے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف سعودی سرحد کے قریب یمنی علاقے میں ہلاک ہونے والے باغیوں کی تعداد بھی 500 سے زائد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ مشترکہ سرحد پر باغیوں کے حملوں اور مختلف جھڑپوں میں اب تک چھ سعودی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید