1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اخوان المسلمون کے دس رہنماؤں کو موت کی سزا

شامل شمس5 جولائی 2014

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے رہنما محمد بداعی سمیت جماعت کے چھتیس رہنماؤں کو عمر قید جب کہ دس کو موت کی سزا سنا دی ہے۔

https://p.dw.com/p/1CWL3
تصویر: AHMED GAMIL/AFP/Getty Images

موت کی سزا جن رہنماؤں کو سنائی گئی ہے ان میں سے بیشتر مفرور ہیں۔ بداعی کو سزا پُرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر دی گئی ہے۔ بداعی کو دو مقدمات میں پہلے ہی موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

مصری عدالت کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں اخوان المسلمون کے رہنماؤں اور کارکنوں کو موت کی سزا سنائے جانے پر عالمی سطح پر نکتہ چینی بھی کی گئی ہے۔

مصری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مصر میں جاری اس نوع کے مقدمات کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ تیز رفتاری سے چلائے جانے والے ان مقدموں کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس عدالتی فیصلے کو جمہوریت کے ضمن میں ایک منفی قدم قرار دیا ہے۔

گزشتہ برس جولائی میں سابق مصری صدر محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کرنے کے بعد فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے مرسی اور اخوان المسلمون کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں اسلام پسندوں کی ایک بڑی تعداد کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

مصری دارالحکومت قاہرہ میں انسانی حقوق کےکارکن اور وکیل نجاد البرعی نے کہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں مصر میں موت کی سزا سنائے جانے کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے جس سے معاشرےکے مزید متشدد ہو جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اخوان کے رہنماؤں پر چلائے جانے والے مقدمات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی طور پر اس طرح کی سزاؤں سے کوئی بہتری پیدا نہیں ہو گی کیوں کہ لوگ ان سزاؤں کے سیاسی پہلوؤں سے بہ خوبی واقف ہیں۔

اسی تناظر میں گزشتہ ماہ امریکی سینیٹرز نے کہا تھا کہ مصر کو سالانہ بنیادوں پر دی جانے والی تقریباً ایک بلین ڈالرکی امریکی فوجی امداد پر نظر ثانی کی جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ مصر میں اسلام پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین ہونے والی مختلف جھڑپوں میں کم از کم چودہ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباﹰ پندرہ ہزار افراد گرفتار بھی کیے گئے ہیں، جن میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت کی مخالفت کرنے والے سکیولر اور لبرل کارکن بھی شامل ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید