1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
Wrong language? Change it here. DW.DE has chosen اردو as your language setting.

اسلام اور یہودیت مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے، تازہ امریکی رپورٹ

طالبان سے مذاکرات کیوں نہیں، نواز شریف

پاکستان کھادوں سے بم سازی کے خلاف اقدامات کر رہا ہے، امریکا

میانمار میں فرقہ ورانہ تشدد کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے، تھین سین

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    بھارتی اداکارہ فریدہ پنٹو کن میلے میں

    پندرہ فروری کو اپنی نوعیت کے چھیاسٹھ ویں بین الاقوامی فلمی میلے کن کی افتتاحی تقریب میں بھارتی اداکارہ فریدہ پنٹو بھی شریک ہوئیں۔ اُنہیں 2008ء میں بننے والی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ سے شہرت ملی تھی۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    گلیمر اور صرف گلیمر

    کن میں ہر سال صرف فلمیں ہی مرکز نگاہ نہیں ہوتیں بلکہ ریڈ کارپٹ پر فلمی ستارے بھی شائقین اور جریدوں کو مصروف رکھتے ہیں۔ اس سال بھی ہالی وڈ، یورپ اور ایشیا کے معروف فلمی ستارے اس میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    کن فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کے لیے فلم ’ The Great Gatsby‘ کا انتخاب کیا گیا۔ ’دی گریٹ گیٹسبی‘ میں بھارتی فلمی صنعت کے نامور فلم اسٹار امیتابھ بچن نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فلموں اور فلمی ستاروں کا مرکز

    کن فلم فیسٹیول کے لیے تیار کیے جانے والے پوسٹر میں امریکی اداکارہ جوآنا وڈ ورڈ اور پاؤل نیومین کو 1963ء کے ایک تاریخی منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فلمی میلہ تاریخ اور عصرِ حاضر کے مابین ایک پل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    کن اور جرمن سنیما

    کن فلم فیسٹیول میں گزشتہ چند برسوں سے جرمن فلموں کو کچھ خاص پذیرائی نہیں مل پا رہی۔ امسالہ میلے میں صرف دو جرمن فلمیں شامل کی گئی ہیں، جو مقابلے میں شامل نہیں ہیں۔ اس بار کن میں شارٹ فلم Komm und Spiel اور Semaine International de la critique دکھائی جا رہی ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    جرمنی کی واحد فیچر فلم

    خاتون فلم ساز کاترین گیبے کی ’Tore tanzt‘ اس میلے کی واحد جرمن فیچر فلم ہے۔ گیبے نے ہیمبرگ کے میڈیا اسکول سے اپنے فلمسازی کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ Un Certain Regard نامی یہ فلم فیسٹیول سیکشن میں دکھائی جائے گی۔ اس فلم میں ایک نوجوان کے مذہبی بیداری کے ڈرامائی مشاہدات کو بیان کیا گیا ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    ڈریم ٹیم

    Thierry Fremaux اور Gilles Jacob اس فلمی میلے کے غیر متنازعہ سربراہ ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان دونوں کی کوششوں سے کن فلمی فیسٹیول عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو مزید بڑھانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ ہر فلمساز چاہتا ہے کہ کن میں اس فلم دکھائی جائے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    جیوری کے سربراہ ’اشپیلبرگ‘

    اس مرتبہ کن فلمی میلے کی جیوری کی قیادت ہالی وڈ کے معروف ڈائریکٹر اسٹیون اشپیلبرگ کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ یہ ذمہ داری اکیلے ہی ادا نہیں کریں گے بلکہ اُن کے ساتھی ارکان میں فلمی صنعت کے کئی دیگر ماہرین کے علاوہ نکول کڈ مین، کرسٹوف والٹس اور ڈینیل اوتوئی جیسے اداکار بھی شامل ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    ایرانی فلم

    ایرانی فلمساز اصغر فرہادی اپنی نئی فلم Le passe کے ساتھ کن میں موجود ہیں۔ پناہی کی آخری فلم ’نادر اور سیمیں، ایک علیحدگی‘ کو آسکر انعام دیا گیا تھا۔ اس فلم کو برلینالے میں گولڈن بیئر کے علاوہ دیگر متعدد انعامات بھی دیے گئے ہیں۔ فرہادی کی نئی فلم کی عکسبندی فرانس میں ہوئی ہے۔ اس فلم کا مرکزی موضوع بھی علیحدگی ہی ہے اور اس میں ایک ایرانی مرد اور فرانسیسی خاتون کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    براعظم افریقہ کی نمائندگی

    ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی افریقی فلم کسی فلم فیسٹیول میں شریک ہو۔ چاڈ سے تعلق رکھنے والے فلمساز مہامت صالح ہارون دوسری مرتبہ اپنی فلم کے ساتھ کن میں موجود ہیں۔ اس مرتبہ ان کی فلم ’Grigis‘ میں ایک ایسا نوجوان دکھایا گیا ہے، جو رقص کی دنیا میں اپنا نام پیدا کرنا چاہتا ہے تاہم روز مرہ کے سخت معمولات کی وجہ سے اس کی خواہش ادھوری رہ جاتی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فرانس کی مضبوط شرکت

    کن میں ہر سال بڑی تعداد میں فرانسیسی فلموں کو شرکت کا موقع دیا جاتا ہے۔ مقابلے کے شعبے میں اکٹھی سات فرانسیسی فلمیں موجود ہیں۔ اس تناظر میں مشہور فلمساز Francois Ozon کئی برسوں سے اس فلمی میلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کی فلم ’Jeune et Joile ‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے ، جو جنسی خواہشات کی تکمیل اور نت نئے تجربات میں دلچسپی رکھتی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    ہالی وڈ کے ستارے

    فرانس کے علاوہ بہت سی امریکی فلمیں بھی کن فلمی میلے کا حصہ ہیں۔ ایک جانب امریکا سے تعلق رکھنے والے معروف ستارے ہیں تو دوسری جانب مشہور فلم ڈائریکٹرز ہیں، جو ہالی وڈ کی عام روش سے ہٹ کر ہر سال متعدد فلمیں سامنے لاتے ہیں۔ اس حوالے سے جوئل اور ایتھن کوئن بھائیوں کو استثنائی حیثیت کے حامل فنکار قرار دیا جاتا ہے، جو اپنی نئی فلم کے ساتھ میلے میں شریک ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فلمساز جم جارمش کی واپسی

    جم جرموش (Jim jarmusch) کا شمار شمالی امریکا کے معروف ترین فلمسازوں میں ہوتا ہے۔ ان کی نئی فلم ’Only Lovers‘ ایک بھوت کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اس میں ٹلڈا سونٹن اور ٹوم ہڈلسٹن مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جم جرموش اس سے قبل 1984ء کے کن فلم فیسٹیول میں گولڈن کیمرا ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    چین کی تخلیقات

    دنیا کے ہر بڑے فلمی میلے میں ایشیا کی فلمیں شامل ہوتی ہیں۔ دلچسپ فلمیں سامنے لانے والی سرزمین چین کی نمائندگی اس مرتبہ ڈائریکٹر Jia Zhangke کر رہے ہیں۔ ان کی فلم ’Tian zhu ding‘ جاپان کے اشتراک سے بنی ہے۔ اس میں چار ایسے افراد کو دکھایا گیا ہے، جو مختلف جگہوں پر رہتے ہیں لیکن ان کی قسمت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    رومن پولانسکی کا نیا انداز

    فلم ڈائریکٹر رومن پولانسکی روایت سے ہٹ کر اس مرتبہ کن فلم فیسٹیول میں ایک مزاحیہ فلم کے ساتھ شریک ہیں۔ ان کی نئی فلم ’La venus a la Fourrnure‘ ایک ڈائریکٹر کے گرد گھومتی ہے۔ یہ کردار’Mathier Amalric‘ نے ادا کیا ہے۔ یہ ڈائریکٹر اپنے نئے ڈرامے کے لیے ایک ہیروئن کی تلاش میں ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    گولڈن پام کی دوڑ

    کن فلم فیسٹیول میں کل 19 فلمیں گولڈن پام کی دوڑ میں شامل ہیں۔ یہ کسی بھی فلم کے لیے فخر کی بات ہو گی اگر اسے اس ایوارڈ کا حق دار قرار ٹہھرایا جاتا ہے۔ کن فلم فیسٹیول 26 مئی کو گولڈن پام کی تقسیم کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا۔


    مصنف: Jochen Kürten/ ai /aa

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    رواداری کے فروغ کے لیے جشن

    اس کارنیوال میں برلن میں نمائندگی رکھنے والی مختلف ثقافتیں اپنے اپنے رنگ دکھاتی ہیں اور ایک مرکزی جلوس میں لوگ نت نئے ملبوسات پہنے اپنے اپنے علاقے کے رقص اور موسیقی کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ نو گھنٹے تک جاری رہنے والے امسالہ مرکزی جلوس سے تقریباً سات لاکھ شائقین محظوظ ہوئے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    کروئس برگ محوِ رقص

    یہ ثقافتی پریڈ برلن کے جنوب میں واقع ضلع کروئس برگ کے تقریباً تین کلومیٹر طویل راستے سے ہو کر گزری۔ شہر کا یہ حصہ ایک کثیرالثقافتی علاقے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ 1970ء کے عشرے میں اسی علاقے میں ڈونر کباب دریافت ہوا۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    ایک جشن، سب کے لیے

    عام طور پر کروئس برگ میں زیادہ تر ترک نژاد شہری ہی نظر آتے ہیں لیکن ’ثقافتوں کے کارنیوال‘ کے موقع پر ہر رنگ و نسل کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ برلن میں مجموعی طور پر 180 ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ برلن شہر کے تقریباً چار لاکھ ساٹھ ہزار باسی غیر ملکی پاسپورٹوں کے حامل ہیں۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    جشن پر خرچ بھی بہت ہوتا ہے

    اس سال اس کارنیوال سے پہلے احتجاج بھی کیا گیا کہ اس سلسلے کے آغاز کے اٹھارہ سال بعد بھی فلوٹس تیار کرنے والے گروپوں کو سارے اخراجات خود ہی ادا کرنا پڑتے ہیں، مثلاً فلوٹ کی گاڑی کا کرایہ، جنریٹر کے اخراجات، رنگا رنگ ملبوسات کی تیاری، ریہرسل کے لیے کمروں کے کرایے وغیرہ۔ یہ گروپ ایک فنڈ کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو مستقبل میں اس اجتماع کی تیاری میں مدد دے سکے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    بڑے پیمانے پر شائقین کی شرکت

    جلوس کا نظارہ کرنے والوں نے خود بھی رنگا رنگ ملبوسات پہن رکھے ہوتے ہیں۔ اس سال تقریباً سات لاکھ شائقین نے اس جشن میں شرکت کی اور تصاویر بنائیں۔ تقریباً چار کلومیٹر کا راستہ طے کرنے میں جلوس کو پورا دن لگ جاتا ہے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    برلن میں جنوبی امریکی رقص ’سامبا‘

    برلن کی سڑکوں پر منائے جانے والے اس جشن میں بہت سے جنوبی امریکی رقاص گروپ بھی شریک ہوتے ہیں۔ برلن کے اس کارنیوال میں برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو کے کارنیوال کی جھلک ملتی ہے ورنہ قدرے ٹھنڈے برلن میں اس طرح کے ملبوسات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    برلن بھی کارنیوال منانا جانتا ہے!

    ’ثقافتوں کا کارنیوال‘ سب سے پہلے 1996ء میں منایا گیا۔ عام طور پر کارنیوال فروری کے مہینے میں دریائے رائن کے کنارے واقع شہروں میں منایا جاتا ہے جبکہ تنظیم ’ثقافتوں کی ورکشاپ‘ کا بنیادی مقصد یہ دکھانا تھا کہ یہی ثقافتی اجتماع برلن میں کس طریقے سے منایا جا سکتا ہے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    لندن کے ’ناٹِنگ ہِل کارنیوال‘ کی تقلید

    یہ تصویر برطانوی دارالحکومت لندن کے اس حصے کی ہے، جہاں شہری 1960ء کے عشرے سے ہر سال اگست کے مہینے میں باہمی رواداری کے فروغ کے لیے دو روزہ ’ناٹِنگ ہِل کارنیوال‘ مناتے ہیں۔ دریں اثناء برلن کے اس میلے کی تقلید میں کولون اور بیلیفیَلڈ جیسے جرمن شہروں میں بھی اسی طرح کے اجتماعات منعقد کرائے جانے لگے ہیں۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    برلن کے کم سن شہری

    بنیادی تصور یہ ہے کہ برلن کے شہریوں میں بچپن ہی سے رواداری کی سوچ پیدا کی جائے۔ اسی لیے بڑے کارنیوال جلوس سے پہلے ہفتے کے روز ’بچوں کا ثقافتی کارنیوال‘ منعقد ہوتا ہے۔ اس سال کروئس برگ کے ماریانن پلاٹس پر تقریباً پندرہ سو بچے اس اجتماع میں شریک ہوئے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    2014ء میں پھر ملیں گے!

    برلن کے شہریوں کو اب اپنا کارنیوال اتنا پسند ہے کہ وہ اگلے سال ایک مرتبہ پھر اس کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں۔ آئندہ سال یہ تہوار آٹھ جون کو ہو گا۔ تب ایک بار پھر برلن کے شہری اور باہر سے گئے ہوئے مہمان مل کر رقص کریں گے۔


    مصنف: فریڈل ٹاؤبے/ ترجمہ: امجد علی | ایڈیٹر: مقبول ملک