1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
Wrong language? Change it here. DW.DE has chosen اردو as your language setting.

ڈین براؤن کا ناول ’انفیرنو‘ بدستور سرفہرست

صدر بننے کے بعد باراک اوباما کا پہلا دورہ جرمنی

امریکا کے افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات

جی ایٹ: پہلے اختلاف اور بالآخر اتفاق

مہاجرت پر مجبور ہونے والوں میں افغان سرفہرست

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    ایران میں جمعے کو ہونے والے صدارتی الیکشن کے عبوری نتائج کے مطابق اعتدال پسند مذہبی رہنما حسن روحانی کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ ہی تہران میں ان کے حامیوں نے خوشیاں منانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    اعتدال پسند مذہبی رہنما حسن روحانی کی مہم کے دوران ارغوانی رنگ کثرت سے استعمال کیا گیا تھا۔ یہی ان کی مہم کا باقاعدہ رنگ بھی تھا۔ کامیابی کے اعلان کے بعد جب لوگ سڑکوں پر نکلے تو انہوں نے اسی رنگ کے لباس، بازو بند اور پرچم اٹھا رکھے تھے۔

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    زیادہ مضبوط تصور کیے جانے والے سخت گیر انتخابی امیدواروں کے مقابلے میں ایک اعتدال پسند مذہبی شخصیت کا کامیاب ہو جانا، حسن روحانی کے حامیوں کے لیے بھی باعث حیرت بنا ہے۔

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    پچھتر ملین کی آبادی والے ایران کے انتخابات میں حسن روحانی کو حاصل ہونے والی واضح برتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی معاشرے میں کافی حد تک اصلاحات پسندی کی خواہش پائی جاتی ہے۔

  • Iran Wahl 2013

    ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    تہران میں لوگ خوشیاں مناتے ہوئے۔ ایران کے سابق اعلٰی ترین جوہری مذاکراتی نمائندے حسن روحانی اپنی اعتدال پسندی اور مصالحت پسندانہ سوچ کی وجہ سے مشہور ہیں۔

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    حسن روحانی تہران میں اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے۔

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق اعتدال پسند حسن روحانی کو کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 50 فیصد سے زائد ووٹ ملے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتے کی رات ہی روحانی کو ان کی انتخابی کامیابی پر مبارک باد دے دی۔

  • Iran Wahl 2013

    ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    عالمی رہنماؤں نے جہاں حسن روحانی کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے وہیں ان سے یہ توقعات بھی وابستہ کی ہیں کہ اُن کی زیرِ صدارت ایران علاقائی اور بین الاقوامی امور میں اپنا تعمیری کردار ادا کرے گا۔

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    ایرانی شہر قم میں واقع ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کی گنتی کا عمل۔

  • ایرانی صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کامیاب

    روحانی 50.70 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ صدارتی انتخابات میں 36 ملین کے قریب شہریوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ہفتے کو ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ایرانی وزارت داخلہ نے روحانی کی کامیابی کا اعلان کیا۔

  • Vor der Quadriga-Figur des Brandenburger Tors in Berlin weht eine US-Fahne - Foto: Arno Burgi (dpa)

    امریکی صدر کی برلن آمد

    آزاد مغرب کی علامت

    برلن کے مرکزی براڈنبرگ گیٹ پر امریکی پرچم لہرا رہا ہے۔ سرد جنگ کے دوران مغربی برلن کو فرنٹ لائن شہر تصور کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکا اس شہر میں اپنی موجودگی کو ضروری سمجھتا تھا۔ امریکی صدر کے طور پر 50 ​سال پہلے جان ایف کینیڈی نے اس منقسم شہر کا دورہ کیا تھا۔

  • Präsident Kennedy (l) und Berlins Regierender Bürgermeister Willy Brandt (r) winken vor dem Rathaus Schöneberg der versammelten Menge zu - Foto: dpa

    امریکی صدر کی برلن آمد

    ’میں برلن کا باسی ہوں‘

    امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور برلن کے اس وقت کے میئر ولی برانڈ مغربی برلن کے ٹاؤن ہال ’شوئنےبرگ‘ کے سامنے ہیں۔ کینیڈی کو سننے کے لیے ہزاروں لوگ جمع تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام ’میں برلن کا ایک باسی ہوں‘ کے جملے سے کیا۔ یہ پیغام تھا کہ امریکا ہر صورت مغربی برلن کا دفاع کرے گا۔ بعدازاں یہ فقرہ تاریخ میں بہت مشہور ہوا۔

  • US-Präsident Richard Nixon steht auf dem Wagendach und winkt der jubelnden Menge zu bei seinem Besuch am 27.02.1969 in Westberlin - Foto: AKG

    امریکی صدر کی برلن آمد

    ’برلن کے بہادر عوام‘

    صدر رچرڈ نکسن سن 1969 میں مغربی برلن آئے تھے۔ اس وقت کے جرمن چانسلر نے ان سے کہا کہ انہیں ’برلن کے بہادر عوام‘ سے ملنا چاہیے۔ رچرڈ نکسن کے دور میں امریکا جرمن باہمی رشتے مزید مضبوط ہوئے۔

  • Der amerikanische Präsident Jimmy Carter, seine Gattin Rosalynn, der Regierende Bürgermeister von Berlin Dietrich Stobbe und Bundeskanzler Helmut Schmidt bei der Fahrt in einem offenen Wagen durch Berlin am 15.07.1978 - Foto: dpa

    امریکی صدر کی برلن آمد

    ’برلن آزاد رہے گا‘

    جولائی 1978ء میں جرمن چانسلر ہیلموٹ شمِٹ اور امریکی صدر جمی کارٹر نے مغربی برلن کا دورہ کیا۔ ان کے استقبال کے لیے برلن کے تقریباﹰ ایک لاکھ پچاس ہزار افراد سڑکوں پر موجود تھے۔ برلن کے ایئر پورٹ پر جمی کارٹر نے کہا ’چاہے جو بھی قیمت چُکانا پڑے، برلن آزاد رہے گا‘۔ ذاتی طور پر کارٹر اور شمٹ کے تعلقات کچھ اچھے نہیں تھے۔

  • Besuch Ronald Reagan in Berlin 1982 - Foto: AP

    امریکی صدر کی برلن آمد

    ’گورباچوف دیوار گرا دیجئے‘

    سن 1982ء میں اپنے پہلے دورہ جرمنی کے دوران امریکی صدر رونالڈ ریگن سرحدی ’چیک پوائنٹ چارلی‘ پر گئے۔ یہ چوکی مشرقی برلن اور مغربی برلن کو جُدا کرتی تھی۔ پانچ سال بعد ریگن دوبارہ منقسم برلن آئے، جہاں انہوں نے اپنے تاریخی خطاب میں کہا’مسٹر گورباچوف یہ دیوار گرا دیجئے‘۔

  • US-Präsident Bill Clinton mit seiner Frau Hillary steht mit Bundeskanzler Helmut Kohl und dessen Gattin Hannelore vor dem Brandenburger Tor in Berlin 1994 - Foto: Paul J. Richards (AFP)

    امریکی صدر کی برلن آمد

    ’برلن آزاد ہے‘

    بل کلنٹن وہ پہلے امریکی صدر تھے، جنہوں نے سن 1994ء میں متحدہ برلن کا دورہ کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آخری جُملہ جرمن زبان میں کہا، جس کا مطلب ہے’سب کچھ ممکن ہے، برلن آزاد ہے‘۔ ان سے پہلے امریکی صدر جارج بش نے سن 1990ء میں چانسلر ہیلموٹ کوہل کو اتحاد جرمنی کی مبارک باد تو دی تھی لیکن وہ برلن نہیں آئے تھے۔

  • Der US-Präsident George W. Bush hält im Bundestag 2002 eine Rede - Foto: dpa

    امریکی صدر کی برلن آمد

    ’احتجاجی مظاہرے‘

    جارج بش کے برعکس ان کے بیٹے جارج ڈبلیو بش دو بار برلن آئے۔ دیگر امریکی صدور کے برعکس عراقی جنگ کی وجہ سے سن 2002ء میں ان کا استقبال احتجاجی مظاہروں سے ہوا۔ اس کے بعد سن 2008 میں وہ دوبارہ برلن آئے اور انہوں نے پارلیمنٹ سے خطاب میں امریکا اور یورپ کے مشترکہ مفادات اور مقاصد پر زور دیا۔

  • Barack Obama an der Siegessäule in Berlin 2008 - Foto: Rainer Jensen (dpa)

    امریکی صدر کی برلن آمد

    باراک اوباما

    امریکی صدر بننے کے ساڑھے چار سال بعد باراک اوباما پہلی مرتبہ جرمنی کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے سن 2008 میں برلن کا دورہ کیا تھا۔ اُس وقت وہ صدارتی امیدوار تھے اور ان کا بھرپور استقبال کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ ڈرون پالیسی کی وجہ سے ان کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔


    مصنف: آنجا فینلے / امتیاز احمد | ایڈیٹر: آرنڈ ریکمان / عدنان اسحاق