1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
Wrong language? Change it here. DW.DE has chosen اردو as your language setting.

نیٹو ساز و سامان کی پاکستان کے راستے واپسی جاری

چین اور پاکستان مل کر کن منصوبوں پر کام کرنا چاہتے ہیں ؟

بلوچستان: بم دھماکے میں 11پولیس اہلکاروں سمیت تیرہ افراد ہلاک

افغان مُترجمین کے لیے برطانیہ میں نئی زندگی شروع کرنے کا موقع

شام: 11 ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    رواداری کے فروغ کے لیے جشن

    اس کارنیوال میں برلن میں نمائندگی رکھنے والی مختلف ثقافتیں اپنے اپنے رنگ دکھاتی ہیں اور ایک مرکزی جلوس میں لوگ نت نئے ملبوسات پہنے اپنے اپنے علاقے کے رقص اور موسیقی کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ نو گھنٹے تک جاری رہنے والے امسالہ مرکزی جلوس سے تقریباً سات لاکھ شائقین محظوظ ہوئے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    کروئس برگ محوِ رقص

    یہ ثقافتی پریڈ برلن کے جنوب میں واقع ضلع کروئس برگ کے تقریباً تین کلومیٹر طویل راستے سے ہو کر گزری۔ شہر کا یہ حصہ ایک کثیرالثقافتی علاقے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ 1970ء کے عشرے میں اسی علاقے میں ڈونر کباب دریافت ہوا۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    ایک جشن، سب کے لیے

    عام طور پر کروئس برگ میں زیادہ تر ترک نژاد شہری ہی نظر آتے ہیں لیکن ’ثقافتوں کے کارنیوال‘ کے موقع پر ہر رنگ و نسل کے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ برلن میں مجموعی طور پر 180 ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ برلن شہر کے تقریباً چار لاکھ ساٹھ ہزار باسی غیر ملکی پاسپورٹوں کے حامل ہیں۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    جشن پر خرچ بھی بہت ہوتا ہے

    اس سال اس کارنیوال سے پہلے احتجاج بھی کیا گیا کہ اس سلسلے کے آغاز کے اٹھارہ سال بعد بھی فلوٹس تیار کرنے والے گروپوں کو سارے اخراجات خود ہی ادا کرنا پڑتے ہیں، مثلاً فلوٹ کی گاڑی کا کرایہ، جنریٹر کے اخراجات، رنگا رنگ ملبوسات کی تیاری، ریہرسل کے لیے کمروں کے کرایے وغیرہ۔ یہ گروپ ایک فنڈ کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو مستقبل میں اس اجتماع کی تیاری میں مدد دے سکے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    بڑے پیمانے پر شائقین کی شرکت

    جلوس کا نظارہ کرنے والوں نے خود بھی رنگا رنگ ملبوسات پہن رکھے ہوتے ہیں۔ اس سال تقریباً سات لاکھ شائقین نے اس جشن میں شرکت کی اور تصاویر بنائیں۔ تقریباً چار کلومیٹر کا راستہ طے کرنے میں جلوس کو پورا دن لگ جاتا ہے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    برلن میں جنوبی امریکی رقص ’سامبا‘

    برلن کی سڑکوں پر منائے جانے والے اس جشن میں بہت سے جنوبی امریکی رقاص گروپ بھی شریک ہوتے ہیں۔ برلن کے اس کارنیوال میں برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو کے کارنیوال کی جھلک ملتی ہے ورنہ قدرے ٹھنڈے برلن میں اس طرح کے ملبوسات کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    برلن بھی کارنیوال منانا جانتا ہے!

    ’ثقافتوں کا کارنیوال‘ سب سے پہلے 1996ء میں منایا گیا۔ عام طور پر کارنیوال فروری کے مہینے میں دریائے رائن کے کنارے واقع شہروں میں منایا جاتا ہے جبکہ تنظیم ’ثقافتوں کی ورکشاپ‘ کا بنیادی مقصد یہ دکھانا تھا کہ یہی ثقافتی اجتماع برلن میں کس طریقے سے منایا جا سکتا ہے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    لندن کے ’ناٹِنگ ہِل کارنیوال‘ کی تقلید

    یہ تصویر برطانوی دارالحکومت لندن کے اس حصے کی ہے، جہاں شہری 1960ء کے عشرے سے ہر سال اگست کے مہینے میں باہمی رواداری کے فروغ کے لیے دو روزہ ’ناٹِنگ ہِل کارنیوال‘ مناتے ہیں۔ دریں اثناء برلن کے اس میلے کی تقلید میں کولون اور بیلیفیَلڈ جیسے جرمن شہروں میں بھی اسی طرح کے اجتماعات منعقد کرائے جانے لگے ہیں۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    برلن کے کم سن شہری

    بنیادی تصور یہ ہے کہ برلن کے شہریوں میں بچپن ہی سے رواداری کی سوچ پیدا کی جائے۔ اسی لیے بڑے کارنیوال جلوس سے پہلے ہفتے کے روز ’بچوں کا ثقافتی کارنیوال‘ منعقد ہوتا ہے۔ اس سال کروئس برگ کے ماریانن پلاٹس پر تقریباً پندرہ سو بچے اس اجتماع میں شریک ہوئے۔

  • برلن میں ثقافتوں کا کارنیوال

    2014ء میں پھر ملیں گے!

    برلن کے شہریوں کو اب اپنا کارنیوال اتنا پسند ہے کہ وہ اگلے سال ایک مرتبہ پھر اس کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں۔ آئندہ سال یہ تہوار آٹھ جون کو ہو گا۔ تب ایک بار پھر برلن کے شہری اور باہر سے گئے ہوئے مہمان مل کر رقص کریں گے۔


    مصنف: فریڈل ٹاؤبے/ ترجمہ: امجد علی | ایڈیٹر: مقبول ملک

  • Verschiedene Memory-Karten aus 150 Jahre SPD Geschichte liegen bunt durcheinandergemischt auf der Rückseite der anderen Memory-Karten, Foto: Per Henriksen /DW08.05.2013 /

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    ایس پی ڈی کا قیام

    یہ جماعت شہر لائپسگ میں جرمن مزدوروں کی تحریک کے دوران 23 مئی 1863ء کو قائم ہوئی تھی۔ ولی برانٹ ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے پہلے چانسلر تھے، جو پارٹی کے قیام کے تقریباً سو سال کے بعد اس عہدے پر فائز ہوئے۔ ان ڈیڑھ سو برسوں میں اب تک تین سوشل ڈیموکریٹ جرمن سربراہ حکومت بن چکے ہیں۔

  • Heimliche Treffen der Sozialdemokraten im August 1869 bei Kerzenschein beim 6. Vereinstag des Verbandes der deutschen Arbeitervereine in Eisenach mit von links nach rechts Adolf Hepner, Wilhelm Liebknecht (mit erhobenem Zeigefinger) und August Bebel, Foto: Archiv der sozialen Demokratie (© AdsD) der Friedrich-Ebert-Stiftung

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    غیر قانونی حیثیت سے مزدور انجمن تک کا سفر

    ارکان کے ابتدائی اجلاس خفیہ مقامات پر موم بتیوں کی روشنی میں منعقد ہوتے تھے۔ آؤگسٹ بیبل اور ولہیلم لیب کنیشٹ بانی ارکان کی حیثیت سے ان میں شریک ہوتے تھے۔ ایس پی ڈی کا نصب العین مزدوروں کے حق میں آواز بلند کرنا تھا۔ فرڈینانڈ لازال نے 1863ء میں ADAV کے نام سے ایک مزدور انجمن کی بنیاد رکھی تھی۔ 1872ء میں ان ارکان کی تعداد بڑھ کر اکیس ہزار ہو چکی تھی اور پھر بڑھتی ہی چلی گئی۔

  • Blick in den Maschinensaal der Werkzeugfirma Richard Hartmann im Jahr 1878, Foto: Ullstein Bild

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    پابندیوں کے باوجود کامیاب

    صنعتی سرگرمیوں کے نتیجے میں لوگوں کو اجرت اور کھانے کو روٹی ملنے لگی لیکن مزدوروں کے حالات ناگفتہ بہ تھے۔ بھاری صنعتوں میں کام سخت اور صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ مزدور انجمنوں میں بڑھتی رکنیت کے آگے 1878ء کے سوشلسٹ قوانین کے ذریعے بند باندھنے کی کوشش کی گئی اور سوشل ڈیموکریٹ تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کے باوجود ایس پی ڈی 1890ء تک ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی تھی۔

  • Blick in das Klassenzimmer der SPD-Parteischule 1908 u.a. Joseph Belli, Franz Mehring, Rosa Luxemburg, August Bebel, Simon Katzenstein, Heinrich Kuno und Wilhelm Pieck, Foto: © AdsD der Friedrich-Ebert-Stiftung

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    ایس پی ڈی کی تنظیمی درسگاہ

    برلن میں ایس پی ڈی کی پارٹی درس گاہ میں روزا لکسمبرگ اور آؤگسٹ بیبل جیسے ممتاز سوشل ڈیموکریٹس نے تربیت حاصل کی۔ اپنے والد ولہیلم بیبل اور اُن کے الفاظ کی یاد میں:’’علم طاقت ہے، طاقت علم ہے۔‘‘ 1912ء تک ایس پی ڈی جرمنی میں سب سے زیادہ ارکان کی حامل اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت بن چکی تھی۔

  • Der SPD-Politiker Philipp Scheidemann ruft am09.11.1918 von einem Balkon des Reichstages in Berlin die erste deutsche Republik aus, Foto: picture-alliance/dpa

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    وائیمار کا ہنگامہ خیز دور

    ایس پی ڈی کے سیاستدان فلیپ شائیڈے مان برلن اسمبلی (رائش ٹاگ) کی بالکونی میں۔ اُنہوں نے نو نومبر 1918ء کو ری پبلک بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سال بعد ہی ایس پی ڈی کے چیئرمین فریڈرش ایبرٹ رائش چانسلر بن گئے اور خواتین کے لیے ووٹ کا حق بھی ایک حقیقت بن گیا، جس کے لیے یہ جماعت 1891ء سے کوششیں کر رہی تھی۔ سوشل ڈیموکریٹس 1932ء تک مضبوط ترین سیاسی قوت رہے۔

  • Otto Wels am Rednerpult des Reichstages 1932, Foto: © AdsD der Friedrich-Ebert-Stiftung

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    نازی حکومت کی شدید مخالفت

    23 مئی 1933 کو سوشل ڈیموکریٹ رکن پارلیمان اوٹو ویلز نے جرمن پارلیمان میں ہٹلر کے متنازعہ قوانین کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری آزادی اور زندگی تو ہم سے چھینی جا سکتی ہے، لیکن ہماری عزت کا سودا نہیں کیا جا سکتا ‘‘۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد مزدور تنظیموں کو کچل دیا گیا اور ایس پی ڈی پر پابندی عائد کر دی گئی۔

  • SPD-Politiker werden 1933 unter Aufsicht der SA gezwungen, Wandparolen zu entfernen, Foto: © AdsD der Friedrich-Ebert-Stiftung.

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    تعاقب اور جلا وطنی

    ہٹلر کے جنگی دستوں کے باوردی ارکان کی نگرانی میں سوشل ڈیموکریٹ رہنماؤں کو دیواروں پر سے نعرے ہٹانا پڑے۔ متعدد سوشل ڈیموکریٹس کو حراست میں لے لیا گیا، جبر و تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا قتل کر دیا گیا۔ اوٹو ویلز نے 1933ء میں پراگ میں ایس پی ڈی کی جلا وطن شاخ Sopade کی بنیاد رکھی، جو بعد میں پیرس اور 1940ء تا 1945ء لندن میں سرگرم رہی۔

  • Der SPD-Vorsitzende der westlichen Besatzungszonen Kurt Schumacher spricht auf einer Kundgebung auf dem Frankfurter Römer am 27.6.1946 vor der Kulisse ausgebombter Häuserfassaden, Foto: © AdsD der Friedrich-Ebert-Stiftung

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    ایس پی ڈی کا نیا دور

    1946ء میں فرینکفرٹ میں کُرٹ شوماخر خطاب کر رہے ہیں، جو اتحادی افواج کے زیر قبضہ مغربی جرمن علاقوں میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ تھے۔ سابق سوویت یونین کے زیر اثرعلاقوں میں ایس پی ڈی اور کے پی ڈی کو زبردستی ایس ای ڈی میں شامل کر دیا گیا۔ مغربی حصے میں 1949ء میں منعقدہ پہلے پارلیمانی انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹس کو CSU کے ہاتھوں شکست ہوئی اور پھر کئی سال تک کے لیے یہ جماعت اپوزیشن میں چلی گئی۔

  • Delegierte auf dem SPD-Parteitag in Bad Godesberg 1959 halten Stimmzettel in die Luft und verabschieden das neue SPD-Grundsatzprogramm, Foto: © AdsD der Friedrich-Ebert-Stiftung

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    ایک مزدور تنظیم سے ایک جدید عوامی جماعت تک

    1959ء میں گوڈیز برگر پروگرام کی منظوری دیتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹس نے مثالی سوشلسٹ نظریات کو خیر باد کہہ دیا اور اپنے دروازے رائے دہندگان کے وسیع تر طبقات کے لیے کھول دیے۔ ایس پی ڈی نے سماجی فلاح پر مبنی آزاد معیشت اپنانے اور ملک کا دفاع کرنے کا عزم ظاہر کیا، جو کہ سی ڈی یُو اور سی ایس یُو کے ساتھ اُس بڑی مخلوط حکومت میں شمولیت کی شرائط تھیں، جس میں 1966ء سے ولی برانٹ نائب چانسلر بن گئے۔

  • Am 7. Dezember 1970 kniet Bundeskanzler Willy Brandt vor dem Ehrenmal in Warschau, das den Helden des Ghetto-Aufstands von 1943 gewidmet ist, nieder, Foto: dpa

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    ولی برانٹ کے زیر سایہ ایک نیا آغاز

    وارسا میں گھٹنے ٹیکتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹ چانسلر ولی برانٹ نے اپنی حکومت کی مشرقی یورپ کی جانب نئی خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی۔ اُن کے پہلے حکومتی پالیسی بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ’زیادہ جمہوریت کی ہمت کی جائے‘۔ بعد کے برسوں میں برانٹ نے قانون، خاندان اور مساوی حقوق کے شعبوں میں کئی ایک اصلاحات متعارف کروائیں۔

  • Heidemarie Wieczorek-Zeul hält bei einer Abstimmung der Jungsozialisten (Jusos) der SPD 1974 in München ihre Stimmkarte hoch, Foto: Ullstein Bild

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    پارٹی کے اندر احتجاجی تحریک

    1968ء میں طلبہ کی ہنگامہ خیز احتجاجی تحریک کے نتیجے میں پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان تازہ ہوا کا ایک جھونکا تھے تاہم وہ پارٹی کے اندر تنازعات کو ہوا دینے کا بھی باعث بنے۔ 1974ء میں ہائیڈے ماری وچورک سوئیل کی صورت میں پہلی مرتبہ ایک خاتون یوتھ وِنگ کی سربراہ منتخب ہوئیں۔

  • Bundeskanzler Helmut Schmidt kondoliert mit gesenktem Kopf der Witwe des von RAF-Terroristen entführten und ermordeten Arbeitgeberpräsidenten Hanns Martin Schleyer am 25.10.1977 auf der Trauerfeier in Stuttgart, Foto: Heinz Wieseler/dpa

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    ہیلمٹ شمٹ اور’ جرمن خزاں‘

    چانسلر ہیلمٹ شمٹ کے دور حکومت کے مشکل ترین لمحات میں سے ایک لمحہ وہ تھا، جب چانسلر نے 1977ء میں آجرین کی تنظیم کے مقتول صدر ہنس مارٹن شلائر کی بیوہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ بائیں بازو کی انتتہا پسند تنظیم ’ریڈ آرمی فیکشن‘ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں شمٹ کے لیے ایک آزمائش کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ پارٹی میں اندرونی تنازعات بھی زور پکڑ گئے۔

  • Rudolf Scharping, Johannes Rau, Oskar Lafontaine und Gerhard Schröder auf dem Mannheimer Parteitag 1995 kurz vor der Abwahl Scharpings als SPD-Vorsitzender durch die Kampfabstimmung mit Lafontaine, Foto: picture-alliance/dpa

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    حزب اختلاف کی حیثیت سے مشکل دور

    1982ء میں سوشل لبرل اتحاد کے ختم ہونے کے بعد ایس پی ڈی ایک بار پھر کسی سال کے لیے اپوزیشن میں چلی گئی۔ 1994ء میں جرمن پارلیمان کے انتخابات میں ایس پی ڈی کے روڈولف شارپنگ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد پارٹی کے اندر ہونے والی ووٹنگ میں وہ پارٹی قائد کے انتخاب میں غیر متوقع طور پر صوبے زار لینڈ کے وزیر اعلیٰ آسکر لافونتین سے ہار گئے۔

  • Mit Trillerpfeifen und einem Plakat gegen Schröders Agenda 2010 demonstrieren Mitarbeiter des von der Schließung bedrohten Bombardier-Werkes Waggonbau Halle-Ammendorf am 19.03.2004 in Halle (Saale) für den Erhalt des Produktionsstandortes, Foto: Peter Endig/dpa

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    ایس پی ڈی اور اصلاحات کا چیلنج

    ہیلمٹ کوہل کے کئی سالہ دور کے بعد ستمبر 1998ء میں ایس پی ڈی کی حکومت بنی۔ ماحول دوست گرین پارٹی کے ساتھ بننے والی اس مخلوط حکومت میں گیرہارڈ شروئیڈر ایس پی ڈی کی جانب سے چانسلر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس دوران شروئیڈر نے ایجنڈا 2010ء کے نام سے اصلاحات کا ایک جامع پروگرام شروع کیا۔ ٹریڈ یونین تنظیموں نے سخت تنقید کی اور ارکان تیزی سے اس جماعت کو چھوڑ کر نئی جماعت ’دی لِنکے‘ میں شامل ہونے لگے۔

  • SPD-Kanzlerkandidat Peer Steinbrück steht mit erhobenen Händen am 09.12.2012 beim außerordentlichen Bundesparteitag der SPD in Hannover neben Frank-Walter Steinmeier (l), Fraktionsvorsitzender der SPD-Bundestagsfraktion, und Sigmar Gabriel (r), SPD-Vorsitzender, die ihm beide applaudieren, Foto: Michael Kappeler/ dpa

    SPD کی 150 سالہ تاریخ

    چانسلر شپ کے مشکل امیدوار

    پیئر اشٹائن بروک ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے چانسلر شپ کے امیدوار ہیں۔ سابق وزیر مالیات کو اقتصادی ماہر کی حیثیت سے اس بحرانی دور میں اس عہدے کے لیے موزوں امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اشٹائن بروک کو اپنے بے باک بیانات کی وجہ سے اکثر اپنی پارٹی کے اندر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں میں وہ انگیلا میرکل سے بہت پیچھے ہیں۔


    مصنف: Anja Fähnle/ Jeanette Seiffert