1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
Wrong language? Change it here. DW.DE has chosen اردو as your language setting.

روس کی طرف سے شام کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی، امریکا کی تشویش

عراق میں بم دھماکے، کم از کم 76 افراد ہلاک

فرانس، ہم جنس پرستوں کے مابین شادیوں کو قانونی تحفظ مل گیا

آزمائش کے لمحات میں اسرائیل کے ساتھ ہوں گے، جرمنی

مستحکم اقتصادیات، مضبوط جاپان

کویتی ہسپتالوں میں صبح کے وقت غیر ملکیوں کے علاج پر پابندی

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    گلیمر اور صرف گلیمر

    کن میں ہر سال صرف فلمیں ہی مرکز نگاہ نہیں ہوتیں بلکہ ریڈ کارپٹ پر فلمی ستارے بھی شائقین اور جریدوں کو مصروف رکھتے ہیں۔ اس سال بھی ہالی وڈ، یورپ اور ایشیا کے معروف فلمی ستارے اس میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    کن فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کے لیے فلم ’ The Great Gatsby‘ کا انتخاب کیا گیا۔ ’دی گریٹ گیٹسبی‘ میں بھارتی فلمی صنعت کے نامور فلم اسٹار امیتابھ بچن نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فلموں اور فلمی ستاروں کا مرکز

    کن فلم فیسٹیول کے لیے تیار کیے جانے والے پوسٹر میں امریکی اداکارہ جوآنا وڈ ورڈ اور پاؤل نیومین کو 1963ء کے ایک تاریخی منظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فلمی میلہ تاریخ اور عصرِ حاضر کے مابین ایک پل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    کن اور جرمن سنیما

    کن فلم فیسٹیول میں گزشتہ چند برسوں سے جرمن فلموں کو کچھ خاص پذیرائی نہیں مل پا رہی۔ امسالہ میلے میں صرف دو جرمن فلمیں شامل کی گئی ہیں، جو مقابلے میں شامل نہیں ہیں۔ اس بار کن میں شارٹ فلم Komm und Spiel اور Semaine International de la critique دکھائی جا رہی ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    جرمنی کی واحد فیچر فلم

    خاتون فلم ساز کاترین گیبے کی ’Tore tanzt‘ اس میلے کی واحد جرمن فیچر فلم ہے۔ گیبے نے ہیمبرگ کے میڈیا اسکول سے اپنے فلمسازی کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ Un Certain Regard نامی یہ فلم فیسٹیول سیکشن میں دکھائی جائے گی۔ اس فلم میں ایک نوجوان کے مذہبی بیداری کے ڈرامائی مشاہدات کو بیان کیا گیا ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    ڈریم ٹیم

    Thierry Fremaux اور Gilles Jacob اس فلمی میلے کے غیر متنازعہ سربراہ ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ان دونوں کی کوششوں سے کن فلمی فیسٹیول عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو مزید بڑھانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ ہر فلمساز چاہتا ہے کہ کن میں اس فلم دکھائی جائے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    جیوری کے سربراہ ’اشپیلبرگ‘

    اس مرتبہ کن فلمی میلے کی جیوری کی قیادت ہالی وڈ کے معروف ڈائریکٹر اسٹیون اشپیلبرگ کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ یہ ذمہ داری اکیلے ہی ادا نہیں کریں گے بلکہ اُن کے ساتھی ارکان میں فلمی صنعت کے کئی دیگر ماہرین کے علاوہ نکول کڈ مین، کرسٹوف والٹس اور ڈینیل اوتوئی جیسے اداکار بھی شامل ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    ایرانی فلم

    ایرانی فلمساز اصغر فرہادی اپنی نئی فلم Le passe کے ساتھ کن میں موجود ہیں۔ پناہی کی آخری فلم ’نادر اور سیمیں، ایک علیحدگی‘ کو آسکر انعام دیا گیا تھا۔ اس فلم کو برلینالے میں گولڈن بیئر کے علاوہ دیگر متعدد انعامات بھی دیے گئے ہیں۔ فرہادی کی نئی فلم کی عکسبندی فرانس میں ہوئی ہے۔ اس فلم کا مرکزی موضوع بھی علیحدگی ہی ہے اور اس میں ایک ایرانی مرد اور فرانسیسی خاتون کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    براعظم افریقہ کی نمائندگی

    ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی افریقی فلم کسی فلم فیسٹیول میں شریک ہو۔ چاڈ سے تعلق رکھنے والے فلمساز مہامت صالح ہارون دوسری مرتبہ اپنی فلم کے ساتھ کن میں موجود ہیں۔ اس مرتبہ ان کی فلم ’Grigis‘ میں ایک ایسا نوجوان دکھایا گیا ہے، جو رقص کی دنیا میں اپنا نام پیدا کرنا چاہتا ہے تاہم روز مرہ کے سخت معمولات کی وجہ سے اس کی خواہش ادھوری رہ جاتی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فرانس کی مضبوط شرکت

    کن میں ہر سال بڑی تعداد میں فرانسیسی فلموں کو شرکت کا موقع دیا جاتا ہے۔ مقابلے کے شعبے میں اکٹھی سات فرانسیسی فلمیں موجود ہیں۔ اس تناظر میں مشہور فلمساز Francois Ozon کئی برسوں سے اس فلمی میلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کی فلم ’Jeune et Joile ‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے ، جو جنسی خواہشات کی تکمیل اور نت نئے تجربات میں دلچسپی رکھتی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    ہالی وڈ کے ستارے

    فرانس کے علاوہ بہت سی امریکی فلمیں بھی کن فلمی میلے کا حصہ ہیں۔ ایک جانب امریکا سے تعلق رکھنے والے معروف ستارے ہیں تو دوسری جانب مشہور فلم ڈائریکٹرز ہیں، جو ہالی وڈ کی عام روش سے ہٹ کر ہر سال متعدد فلمیں سامنے لاتے ہیں۔ اس حوالے سے جوئل اور ایتھن کوئن بھائیوں کو استثنائی حیثیت کے حامل فنکار قرار دیا جاتا ہے، جو اپنی نئی فلم کے ساتھ میلے میں شریک ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    فلمساز جم جارمش کی واپسی

    جم جرموش (Jim jarmusch) کا شمار شمالی امریکا کے معروف ترین فلمسازوں میں ہوتا ہے۔ ان کی نئی فلم ’Only Lovers‘ ایک بھوت کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اس میں ٹلڈا سونٹن اور ٹوم ہڈلسٹن مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جم جرموش اس سے قبل 1984ء کے کن فلم فیسٹیول میں گولڈن کیمرا ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    چین کی تخلیقات

    دنیا کے ہر بڑے فلمی میلے میں ایشیا کی فلمیں شامل ہوتی ہیں۔ دلچسپ فلمیں سامنے لانے والی سرزمین چین کی نمائندگی اس مرتبہ ڈائریکٹر Jia Zhangke کر رہے ہیں۔ ان کی فلم ’Tian zhu ding‘ جاپان کے اشتراک سے بنی ہے۔ اس میں چار ایسے افراد کو دکھایا گیا ہے، جو مختلف جگہوں پر رہتے ہیں لیکن ان کی قسمت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    رومن پولانسکی کا نیا انداز

    فلم ڈائریکٹر رومن پولانسکی روایت سے ہٹ کر اس مرتبہ کن فلم فیسٹیول میں ایک مزاحیہ فلم کے ساتھ شریک ہیں۔ ان کی نئی فلم ’La venus a la Fourrnure‘ ایک ڈائریکٹر کے گرد گھومتی ہے۔ یہ کردار’Mathier Amalric‘ نے ادا کیا ہے۔ یہ ڈائریکٹر اپنے نئے ڈرامے کے لیے ایک ہیروئن کی تلاش میں ہے۔

  • فرانس میں سالانہ کن فلمی میلہ

    گولڈن پام کی دوڑ

    کن فلم فیسٹیول میں کل 19 فلمیں گولڈن پام کی دوڑ میں شامل ہیں۔ یہ کسی بھی فلم کے لیے فخر کی بات ہو گی اگر اسے اس ایوارڈ کا حق دار قرار ٹہھرایا جاتا ہے۔ کن فلم فیسٹیول 26 مئی کو گولڈن پام کی تقسیم کے ساتھ اختتام پذیر ہو گا۔


    مصنف: Jochen Kürten/ ai /aa

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    مہاسین نامی طاقتور سمندری طوفان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی علاقوں سے تقریبا 100 کلومیٹر کی رفتار سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں کم از کم چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    حکام کے مطابق سمندری طوفان کی شدت میں کمی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں ہوا ہے۔ متاثرہ ساحلی علاقوں سے تقریباﹰ دس لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    اقوام متحدہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ طوفان 80 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ تیز ہواؤں اور بارشوں کے سبب ہزار ہا گھروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے چٹاگانگ میں ماہی گیروں کی کشتیاں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے اپنے لاکھوں شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سمندری طوفان ساحلی علاقے میں واقع گھروں کو متاثر کر سکتا ہے۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    طاقتور ہواؤں اور تیز بارش نے بنگلہ دیش کے ہمسایہ ملک میانمار کے شمال مغربی ساحلی علاقوں کو بھی متاثر کیا۔ ان علاقوں میں بے وطن قرار دیے جانے والے ہزارہا روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ تاہم میانمار کا زیادہ تر حصہ اس طوفان سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    سمندری طوفان سے پہلے بے گھر روہنگیا مسلمان ایک مسجد میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ میانمار میں مئی 2008ء میں بھی سمندری طوفان نرگس (Nargis) آیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباﹰ ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    میانمار کی ریاست راکھین میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت نے سمندری طوفان کے خطرات کے باوجود اپنے گھروں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے کئی مہینے پہلے ہی اس سے آگاہ کیا تھا کہ راکھین میں بے گھر ہونے والے افراد کو مون سون کی بارشوں اور سمندری طوفانوں سے خطرات لاحق ہیں۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    گزشتہ برس میانمار کی ریاست راکھین کے جنوبی حصے میں بدھ آبادی اور روہنگیا آبادی کے درمیان ہونے والے فسادات کے دوران مسلمانوں کے تقریباً پانچ ہزار مکانات کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ ان فرقہ ورانہ فسادات میں تقریباﹰ ایک لاکھ چالیس ہزار افراد بے گھر بھی ہوئے تھے۔ تب سے یہ بے گھر افراد اپنے خاندانوں کے ہمراہ ساحلی علاقے میں قائم عارضی کیمپوں میں قیام پذیر ہیں۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    راکھین ریاست میں بسنے والے زیادہ تر روہنگیا مسلمانوں کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں نہ تو میانمار اور نہ ہی بنگلہ دیش قبول کرنے پر تیار ہے۔

  • مہاسین ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا

    میانمار کے ریاستی میڈیا کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے بدھ 15 مئی تک خطرات کے شکار علاقوں سے 70 ہزار کے قریب لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا۔