1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

موصل کے کتب خانے، اسلامک اسٹیٹ کی زد میں

عابد حسین31 جنوری 2015

ایک تہائی عراق پر کنٹرول حاصل کرنے والے سنی انتہا پسند عسکری گروپ دولت الاسلامیہ سے شمالی عراقی شہر موصل کے کتب خانے بھی محفوظ نہیں رہے۔ اس تنظیم کے جنگجو شہر کی مرکزی لائبریری سے ہزاروں کتب اٹھا کر لے گئے ہیں۔

https://p.dw.com/p/1ETt7
موصل شہر میں پیغمبر یونس کی مسمار شدہی مسجد اور مزارتصویر: picture-alliance/dpa/EPA

گزشتہ برس کے وسط سے انتہا پسند عقیدے کی حامل عسکری تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے عراق و شام کے وسیع رقبے پر عمل داری قائم کرتے ہوئے اِس علاقے پر خود ساختہ خلافت قائم کر رکھی ہے۔ اِس دوران کئی تاریخی مقامات کو یہ سمجھتے ہوئے جہادیوں نے بارودی مواد سے اڑا دیا کہ یہ اسلام کے نظریہ توحید کے کُلی نفاذ کے راہ میں حائل ہیں۔ شمالی عراق کے شہر موصل کو کئی تاریخی عمارتوں کا امین شہر قرار دیا جاتا تھا اور جب سے اسلامک اسٹیٹ نے اِس پر کنٹرول حاصل کیا ہے، تب سے اِس شہر کے تاریخی ورثے کو بارود کے ذریعے مٹی میں ملا دیا گیا ہے۔

دولت الاسلامیہ کے جہادی اپنے نظریاتی گروپ کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں اور اب کتب خانے بھی بربادی کا شکار ہو رہے ہیں۔ رواں مہینے کے دوران موصل کی مرکزی لائبریری پر جہادیوں نے دھاوا بولا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق لائبریری میں داخل ہو کر جہادیوں نے کتابوں سے بھری المایروں پر لگے تالوں کو توڑ کر کتابوں کو ادھر اُدھر پھینکنا شروع کر دیا۔ موصل کے مرکزی کتب خانے یا لائبریری کو شمالی عراق میں سب سے بڑا کتابوں کا ذخیرہ قرار دیا جاتا تھا۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہادی کسی بھی کتب خانے پر جب دھاوا بولتے ہیں نو ان میں سے ایک شخص اُن کتابوں کو ایمان دشمن قرار دینا شروع کر دیتا ہے جو اُن کے سلفی عقیدے سے نسبت نہیں رکھتی۔ دوسرے جہادی کتابوں بوریوں میں بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔

IS Terrormiliz Mossul Irak
جون سن 2014 میں موصل شہر میں داخل ہوتے اسلامک اسٹیٹ کے جہادیتصویر: ap

موصل کی مرکزی لائبری میں داخل ہونے کے بعد اسلامک اسٹیٹ کے کارندوں نے بوریوں میں قیمتی اور نایاب کتابوں کو ٹھونسا اور پھر اُن کو چھ پک اپ ٹرکوں پر لاد کر لے گئے تھے۔ اب یہ کتابیں کہاں ہیں کوئی نہیں جانتا۔ لائبریری پر دھاوے کے دوران ایک افغانی ہیئت والا جہادی لوگوں کو کہتا پھرتا تھا کہ یہ کتابیں لوگوں میں کفر پھیلانے کا سببب بن رہی ہیں اور اِن کا ضائع کر دینا دین کے لیے بہتر ہے کیونکہ اِس طرح آپ لوگ اللہ کی نافرمانی سے بچ سکتے ہیں۔ جہادیوں نے لائبریری میں صرف ایسی کتابیں چھوڑی ہیں جو اُن کے اسلامی عقیدے کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔

اسلامک اسٹیٹ کے جہادی موصل کی لائبریری سے جو کتابیں اٹھا کر لے گئے ہیں، اُن میں قدیمی قلمی مخطوطوں کے علاوہ شاعری، فلسفہ، اسپورٹس، ہیلتھ، ثقافت اور سائنس کے موضوعات والی جدید اور قدیم کتب شامل ہیں۔ بچوں کی کہانیوں والی کتابیں بھی نہیں چھوڑی گئی ہیں۔ کئی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہادی ہاتھ سے لکھی کتابوں کو بین الاقوامی سطح پر قائم نایاب کتب کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے اپنے خزانے کا پیٹ بھرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق موصل کی لائبریری میں کئی سو قدیمی اور نایاب قلمی نسخے موجود تھے۔ بعض کے نزدیک یہ تعداد دو ہزار کے قریب تھی۔