1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فزکس کا نوبل انعام تین جاپانی نژاد سائنسدانوں کے نام

مقبول ملک7 اکتوبر 2014

اس سال کا فزکس کا نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ایسے جاپانی نژاد سائنسدانوں کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنہوں نے نئی طرز کے LED لیمپ ایجاد کر کے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے خلاف جنگ میں ایک بڑی پیش قدمی کو ممکن بنایا۔

https://p.dw.com/p/1DRj7
بائیں سے دائیں: شُوجی ناکامُورا، ایسامُو آکاساکی اور ہیروشی امانو

سٹاک ہوم میں اس سال کے نوبل انعام برائے فزکس کا اعلان کرنے والی جیوری کے فیصلے کے مطابق اس انعام کے ساتھ ان تینوں ماہرین کی انقلابی ایجاد کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔

نوبل انعام برائے فزکس 2014ء کے حقدار ٹھہرائے گئے تینوں ماہرین جاپانی نژاد ہیں۔ ان میں سے اِیسامُو آکاساکی اور ہیروشی امانو جاپانی شہری ہیں جبکہ ان کے ساتھی شُوجی ناکامُورا امریکی شہریت حاصل کر چکے ہیں اور کیلیفورنیا میں رہتے ہوئے اپنی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نوبل پرائز جیوری کے مطابق ان تینوں سائنسدانوں نے نیلے رنگ کی روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈ یا LED کی صورت میں روشنی کا ایک زیادہ فعال، کم توانائی استعمال کرنے والا اور کہیں زیادہ ماحول دوست ذریعہ ایجاد کیا ہے۔ جیوری کے مطابق یہ ایجاد اس حد تک انقلابی نوعیت کی ہے کہ اگر بیسویں صدی باریک دھاتی تار والے بجلی کے روایتی بلب کی صدی ثابت ہوئی تھی اور عام طور پر ایسے ہی الیکٹرک بلب استعمال کیے جاتے رہے تھے تو اکیسویں صدی LED طرز کے لیمپوں کی صدی ثابت ہو گی اور انسان روشنی کے لیے زیادہ تر اسی طرح کے لیمپوں پر انحصار کریں گے۔

Hiroshi Amano Nobelpreis Physik 2014
ہیروشی امانو تینوں ماہرین میں سے سب سے کم عمر ہیںتصویر: Reuters/Nagoya University

ان تینوں محققین نے 1990ء کے عشرے کے اوائل میں سیمی کنڈکٹرز کے ذریعے چمکدار نیلی روشنی کی شعاعیں تیار کی تھیں اور ان کی یہ کامیابی لائٹنگ ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت بڑی تبدیلیوں کا سبب بنی تھی۔ ایسا اس لیے ہوا تھا کہ سرخ اور سبز روشنی خارج کرنے والے light-emitting diode تو کافی عرصہ پہلے ہی تیار کیے جا چکے تھے لیکن اگر یہ تینوں ماہرین مل کر LED سے نیلے رنگ کی روشنی تیار نہ کرتے تو سفید روشنی دینے والے لیمپس یا چھوٹے بڑے قمقموں کی تیاری ممکن ہی نہ ہوتی۔ اس سے قبل نیلی روشنی دینے والے ایل ای ڈی تیار کرنا ایک ایسا چیلنج تھا، جس پر ماہرین کو تین عشروں تک کام کرنا پڑا تھا۔

انیسویں صدی میں ٹامس ایڈیسن کے ایجاد کردہ بجلی کے روایتی filament بلب کے مقابلے میں آج کا ایک اوسط ایل ای ڈی بلب کئی ہزار گھنٹے چمکدار سفید روشنی دیتا ہے اور وہ بجلی بھی 80 فیصد تک کم استعمال کرتا ہے۔ ان تینوں ماہرین کے تیار کردہ بلیو لائٹ LED اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ثابت ہوئے کہ انہوں نے اندھیرے میں روشنی کرنے کے سلسلے میں انسانیت کو ایک قدم اور آگے بڑھا دیا، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دنیا بھر میں 25 فیصد بجلی صرف لائٹنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ان ماہرین میں سے 1929ء میں پیدا ہونے والے آکاساکی اس وقت جاپانی شہر ناگویا کی مے اِیجو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، 1960ء میں پیدا ہونے والے امانو جاپان کی ناگویا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور 1954ء میں پیدا ہونے والے ناکامُورا اب ایک امریکی شہری ہیں اور سانتا باربرا میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر ہیں۔

ان تینوں ماہرین کو فزکس کے نوبل انعام کے ساتھ ساتھ مشترکہ طور پر 1.1 ملین ڈالر کا نقد انعام بھی دیا جائے گا۔ مختلف شعبوں میں نوبل پرائز کی حقدار قرار دی جانے والی شخصیات کو یہ انعامات سٹاک ہوم میں 10 دسمبر کو ہونے والی ایک مرکزی تقریب میں دیے جائیں گے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید