1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی عرب کا تحفظ پاکستانی پالیسی کا حصہ ہے، دفتر خارجہ

شکور رحیم اسلام آباد24 اپریل 2015

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں پر خاموش تماشائی نہیں بنا رہ سکتا اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔

https://p.dw.com/p/1FELP
تصویر: AFP/Getty Images/M. Naamani

پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اعلیٰ سطعی وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے ایک روزہ دورے سے وطن واپسی پر جمعہ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دورے کے دوران سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی وزیر اعظم نے یمن کے جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی سے بھی ملاقات کی۔

اس کے علاوہ نائب ولی عہد اور وزیر داخلہ محمد بن نائف اور وزیر دفاع محمد بن سلیمان نے بھی پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کی۔ بیان کے مطابق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی سعودی وزیر دفاع اور وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں علاقائی امن و سلامتی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات پر تخفظات کا اظہار کیا گیا ۔

پاکستانی قیادت نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کو دہشتگردوں اور دیگر غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں مزید عدم استحکام کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق’’سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تخفظ پاکستان کی پالیسی کا حصہ ہے۔ پاکستان سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنے کے خلاف خاموش تماشائی نہیں بنا رہے گا‘‘۔ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت پر پاکستان کی طر ف سے شدید ردعمل ہو گا۔

Ägypten Salman bin Abdulaziz al-Saud
تصویر: picture alliance/dpa/str

پاکستان میں حوثی باغیوں کی طرف سے یمنی حکومت کو تشدد کے ذریعے ہٹانے کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل کی بیرونی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے اس بات پر اتفاق کیاکہ یہ خطرناک اور ناقابل قبول رحجان ناصرف مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرے گا بلکہ اس سے شدت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ تشدد کے ذریعے ریاست کو چیلنج کریں۔ اسے لیے یہ صرف سعودی قیادت میں قائم اتحاد ہی کی نہیں بلکہ پوری بین الاقوامی برادی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس رجحان کو شکست دے۔

پاکستان نے سعودی اتحاد کے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا، جن کے مطابق یمن کی جائز حکومت کی غیر مشروط بحالی اور حوثیوں کی طرف سے یمنی دارالحکومت صنعاء سمیت ان تمام مقامات سے انخلا ہے جہاں انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ پاکستان نے یمن کے عوام کی انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے بھی پیشکش کی۔ پاکستان نے یمن میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے مثبت کردارادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار داد کے نفاذ کی بھی حمایت کی۔

پاکستان اور سعودی عرب نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے سعودی بادشاہ شاہ عبدالعزیز کو دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی۔