1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خیبرپختون خوا میں موبائل ہیلتھ یونٹ سرگرم

دانش بابر/ پشاور14 اکتوبر 2014

حکومت پاکستان نے امریکی ادارے یو ایس ایڈ اورسیو دی چلڈرن کے تعان سے موبائل ہیلتھ یونٹ کے نام سے صوبہ خیبر پختون خوا کے تین اضلاع اور فاٹا کی چار ایجنسیوں میں ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1DVGC
تصویر: DW/D. Baber

صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ تمام لوگو ں کو یکساں سہولیات فراہم کرے۔ شمال مغربی صوبہ خیبر پختون خوا اور بیشتر قبائلی علاقوں میں صحت کے بنیادی مراکز موجود نہیں ہیں جسکی وجہ سے مقامی لوگ علاج کے لئے دور دراز علاقوں کا رخ کرتے ہیں جس میں اکثر مریضوں کی راستے ہی میں اموات واقع ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان نے امریکی ادارے یو ایس ایڈ(USAID)اورسیو دی چلڈرن(Save the Children) کے تعان سے موبائل ہیلتھ یونٹ کے نام سے صوبہ خیبر پختون خوا کے تین اضلاع اور فاٹا کی چار ایجنسیوں میں ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے۔

ایک گشت کرتی وین میں لوگوں کو ان کے گھروں کے دروازوں پر صحت کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اس موبائل وین میں ڈاکٹر کی سہولت اور مفت ادویات کے ساتھ ساتھ ایکسرے اور لیبارٹری ٹسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔

30 ملین روپے کے لاگت والے اس پانچ سالہ پرواگرام کے بارے میں فاٹا کے پی ہیلتھ پروگرام کے ایک رکن اعجازاحمد کا کہنا ہے کہ یہ پرواگرام سال 2012 ء میں شروع کیا گیا اور 2017 ء تک جاری رہے گا، اس کا مقصد حاملہ خواتین اور نو مولود بچوں کی درست طریقے سے دیکھ بھال کرنے کے ساتھ ساتھ ہر خاص وعام کو صحت کی بنیادی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اعجاز احمد کا مزید کہنا ہے۔ ”پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور صحت کے نظام کو مضبوط کریں تاکہ صحت کی سہولیات کو عام کیا جائے اور اس میدان میں ایک مثبت تبدیلی آجائے۔“

Pakistan Gesundheitsprogramm
اس موبائل ہیلتھ یونٹ کا مقصد حاملہ خواتین اور نو مولود بچوں کو ضروری طبی امداد فراہم کرنا ہےتصویر: DW/D. Baber

فاٹا کے پی ہیلتھ پروگرام (FATA-KP Health Program) کے کمیونیکیشن آفیسر ابرار خان کا کہنا ہے کہ موبائل ہیلتھ یونٹ کے تحت خیبر پختون خوا کے ضلع دیر، ملاکنڈ، شانگلا اور فاٹا کی چار ایجنسیوں باجوڑ، مہمند، کرم اورجنوبی وزیرستان ایجنسی کے باسیوں کو فوری صحت کی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں۔ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ خیبر پختون خوا اور خاص طور پر فاٹا میں زیادہ تر لوگ ایسی جگہوں پر آباد ہیں جہاں صحت کی سہولیات موجود نہیں ہیں، ابھی تک موبائل ہیلتھ یونٹ (MHU)کی مدد سے صحت کے مراکزسے دور اور دشوار پہاڑی علاقوں میں مقیم قریب چھیاسی ہزار مریضوں تک رسائی حاصل کی گئی ہے، جس میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ابرار خان کا کہنا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں ان کے مریضوں کی تعداد وہاں کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال سے کئی زیادہ ہے جوکہ ایک بہت بڑی کامیابی اور کوالٹی ہیلتھ کیئر کی نشانی ہے۔ موبائل وین میں موجود سہولیات کے بارے میں ابرار خان کا کہنا ہے۔”اس میں باقاعدہ ایک ڈاکٹر ، لیڈی ہیلتھ ورکر اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا ایک ممبر ہوتا ہے، اس کے علاوہ موبائل ہیلتھ یونٹ کی بس میں مائیکرو لیب بھی ہوتی ہے جس میں ہر قسم کے ٹیسٹ مفت کروائے جاتے ہیں تاکہ مرض کی درست طریقے سے تشخیص کی جاسکے۔“

Pakistan Gesundheitsprogramm
اس ہیلتھ سروس کی مدد سے بہت سے بیمار بچوں کا علاج ممکن ہو سکے گاتصویر: DW/D. Baber

ڈسٹرکٹ ہیلتھ کوارڈینیٹر ملاکنڈ ڈاکٹر ایمل خان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور امریکہ کی یہ ایک اچھی مشترکہ کاوش ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں”لوگ مجھے اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسر کو ٹیلی فون کرتے رہتے ہیں جس میں کمیونٹی کے لوگ باقائدہ اسرار کرتے ہیں کہ ان کے علاقے کا دورہ کیا جائے۔“

52 سالہ فاطمہ بی بی جو علاج کے لئے گھر کے قریب موبائل ہیلتھ یونٹ آئی ہے، ان کا کہنا ہے، ”میں یہاں پر علاج کے لئے آئی ہوں، یہاں پر سرکاری ٹسٹ کروائے جاتے ہیں اور مفت دوائی بھی دی جاتی ہے، میں بہت غریب ہوں اس لئے یہاں آئی ہوں۔“ وہ مزید کہتی ہے کہ ہسپتال ان کے گھر سے بہت دور ہے ، وہاں جانے میں ان کو بہت تکلیف ہوتی ہے، اور پھر بڑے ہسپتال میں ان کو گھنٹوں انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بس کو ہر ہفتے یہاں بھیجا کرے۔