1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تجارتیورپ

چینی کار ساز کمپنیوں کا جرمن مارکیٹ میں مشروط خیر مقدم

15 اپریل 2024

چینی شہر شنگھائی میں ایک تقریب سے گفتگو میں جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ ایک بات ہمیشہ واضح رہے کہ تجارتی مقابلہ منصفانہ ہونا چاہیے۔ اولاف شولس منگل کو بیجنگ میں چینی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں کریں گے۔

https://p.dw.com/p/4elw3
جرمن چانسلر اولاف شولس سشنگھائی کے دورے کے دوران
جرمن چانسلر اولاف شولس سشنگھائی کے دورے کے دوران تصویر: Michael Kappeler/dpa/picture alliance

جرمن چانسلر اولاف شولس نے کہا ہے کہ جرمنی کی مارکیٹ میں چینی کاروں کا خیرمقدم کیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے استعمال کے خلاف بھی خبردار کیا۔ جرمنی کی معیشت کو جہاں کاروں سے لے کر کیمیکلز جیسی چینی مصنوعات سے فائدہ ہوا ہے، وہیں جرمن کمپنیوں کی طرف سے یہ شکایات بھی ہیں کہ انہیں چین کی منڈی میں غیر منصفانہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔

China Shanghai | Kanzler Scholz bei Townhall mit Studenten
جرمن چانسلر اپنے دورے کے دوران چینی صدر اور وزیر اعظم سے بھی ملاقاتیں کریں گےتصویر: Michael Kappeler/dpa/picture alliance

چانسلر نے کیا کہا؟

 اولاف شولس، جو کئی سرکردہ جرمن ایگزیکٹوز کے ساتھ تین روزہ دورے پر چین میں موجود ہیں،  نے  شنگھائی کی ٹونگ جی یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے کہ کاروباری مقابلہ ہمیشہ منصفانہ ہونا چاہیے۔

جرمن چانسلر کا کہنا تھا  کہ جب جاپانی اور جنوبی کوریائی کاریں یورپی مارکیٹ میں آئیں تو یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ اس مارکیٹ کو مکمل طور پر فتح کر لیں گی۔ لیکن اولاف شولس کے مطابق یہ سب ''بے معنی!‘‘ باتیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جرمنی میں جاپانی کاریں اور جاپان میں جرمن کاریں ہیں۔ ان کے بقول، ''اور یہی بات چین اور جرمنی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''کسی وقت جرمنی اور یورپ میں چینی کاریں بھی ہوں گی۔ صرف ایک چیز جو ہمیشہ واضح ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ مقابلہ منصفانہ ہونا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کوئی ذخیرہ اندوزی، مقررہ سے زیادہ پیداوار اور کاپی رائٹس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے ہیں۔‘‘

جرمن گاڑیوں کی صنعت کا نیا وژن

سفر میں اور کیا ہو رہا ہے؟

جرمن وفد چین کے سب سے بڑے شہر وائی میں جرمن پلاسٹک بنانے والی کمپنی کووسٹرو کے ایک اختراعی مرکز کا دورہ کرے گا۔ بعد ازاں پیر کے روز جرمن چانسلر شنگھائی میں حکمران کیمونسٹ پارٹی کے سیکرٹری چن جننگ کے ساتھ کھاناکھائیں گے۔

شولس کے تین روزہ دورے کا دوسرا پڑاؤ شنگھائی میں ہے۔ وہ  منگل کو چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ سے بات چیت کے لیے بیجنگ جائیں گے۔ جرمن سربراہ حکومت کا دورہ اس وقت میں ہو رہا ہے، جب یورپی یونین اپنے  بلاک کے مینوفیکچررز کو زیادہ سستی درآمد شدہ چینی الیکٹرک کاروں سے بچانے کے لیے تعزیری محصولات پر غور کر رہی ہے۔

چانسلر کے ساتھ جرمن کمپنیوں کے ایک درجن چیف ایگزیکٹوز بھی ہیں، جن میں جرمن گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں مرسڈیز بینز اور بی ایم ڈبلیو کے ساتھ ساتھ کیمیکل کمپنی بی اے ایس ایف کے اعلیٰ عہدیدران بھی شامل ہیں۔ یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی فولکس واگن کے نمائندے اس سفر میں غیر حاضر ہیں۔

ش ر⁄ ع ب ( ڈی پی اے، روئٹرز)

کيا جرمن آٹو انڈسٹری کی عالمی ساکھ بگڑ رہی ہے؟