1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں ڈرون حملہ، چھ مشتبہ جنگجو ہلاک

عاطف بلوچ21 نومبر 2014

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہوئے ایک تازہ ڈرون حملے میں چھ مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔ مقامی سکیورٹی ذرائع نے جمعے کے روز بتایا کہ یہ حملہ منڈا خیل نامی علاقے میں واقع جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر کیا گیا۔

https://p.dw.com/p/1Dr4u
تصویر: picture-alliance/AP

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعرات کی رات کیے گئے اس نئے ڈرون حملے میں ایک مکان پر دو میزائل داغے گئے۔ طالبان کے مابین ہونے والی گفتگو سننے کے بعد پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اس حملے میں چھ جنگجو ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ قبل ازیں اس علاقے میں ہوئے ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے دو جنگجو بھی ہلاک ہوئے تھے۔ القاعدہ نے اس خبر کی تصدیق بھی کر دی تھی۔

افغانستان کی سرحد سے ملحق پاکستانی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اس نئے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔ قریبی علاقے دتہ خیل میں تعینات ایک سکیورٹی اہلکار نے بھی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ چھ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

Pakistan Proteste gegen US Drohnenangriffe
پاکستان میں ڈرون حملوں پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

یہ امر اہم ہے کہ حکومت پاکستان ایسے امریکی ڈرون حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت پر ڈرون حملے کرنا غیر سود مند ثابت ہو سکتا ہے، جب پاکستانی فوج انہی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف عسکری مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی وزارت داخلہ ان حملوں کو ملکی خود مختاری اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی بھی قرار دیتی ہے۔

ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ جب سے فوج نے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائی شروع کی ہے، تب سے مقامی شہری وہاں دیگر علاقوں کے علاوہ منڈا خیل سے بھی نقل مکانی کر رہے ہیں۔ تاہم اس اہلکار کی طرف سے دی جانے والی ایسی اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستانی فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں پندرہ جون سے شروع ہونے والے ضرب عضب نامی آپریشن کے نتیجے میں اب تک بارہ سو جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ اس علاقے میں فوجی کارروائی شروع کرنے سے قبل وہاں کی تقریباﹰ ایک ملین آبادی کو وہاں سے نکل جانے کی تاکید کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اس علاقے میں سخت سکیورٹی کے باعث وہاں سے غیرجانبدارانہ اور آزادانہ اطلاعات موصول ہونا انتہائی مشکل ہے۔

دوسری طرف برصغیر میں القاعدہ کی شاخ AQIS کے ترجمان اسامہ محمود نے تصدیق کر دی ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان میں ہونے والے ایسے ہی ایک ڈرون حملے میں اس تنظیم کے دو ارکان مارے گئے۔ جمعرات کے دن روئٹرز نے اسامہ محمود کے ایک ٹویٹر پیغام کے حوالے سے بتایا کہ ڈاکٹر سربلند ( ابو خالد) اور سابق پاکستانی میجر شیخ عادل عبدالقدوس مارے گئے ہیں۔ یہ دونوں جنگجو پاکستانی تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر سربلند شمالی وزیرستان میں زخمی طالبان کا علاج بھی کیا کرتا تھا۔