1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’سی آئی اے سینیٹ کی جاسوسی میں ملوث رہی‘

ندیم گِل12 مارچ 2014

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سربراہ سینیٹر ڈایان فائن سٹائن نے سی آئی اے پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کانگریس کے عملے کے زیر استعمال کمپیوٹرز کی تلاشی لی تھی۔

https://p.dw.com/p/1BNfT
سینیٹر ڈایان فائن سٹائنتصویر: ap

سینیٹر ڈایان فائن سٹائن نے یہ بات منگل کو سینیٹ میں ایک طویل تقریر کے دوران کہی۔ انہوں نے بش حکومت کے دَور میں مشتبہ دہشت گردوں سے تفتیش کے دوران سی آئی اے کے ممکنہ تشدد میں ملوث ہونے کی چھان بین کے بارے میں بتایا کہ سی آئی اے نے پہلے تو اس عمل میں مداخلت کی اور پھر تفتیشی اہلکاروں کو دھمکانے کی کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی آئی اے نے چوری چھپے دستاویزات ہٹائیں اور سینیٹروں کے لیے قائم کیے گئے ایک کمپیوٹر نیٹ ورک کی تلاشی لی۔ سینیٹر فائن سٹائن نے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے سی آئی اے ممکنہ طور پر فوجداری قوانین اور امریکی آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سینیٹروں اور سی آئی اے کے درمیان یہ تنازعہ پسِ پردہ پانچ برس سے زائد عرصے سے چلا آ رہا ہے تاہم سینیٹر فائن سٹائن کی اس تقریر سے یہ معاملہ عام ہو گیا ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے فائن سٹائن کے الزامات ردّ کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ سینیٹ کی اس کمیٹی کے کام میں رکاوٹ نہیں بن رہا تھا۔ انہوں نے اس کمیٹی یا سینیٹ کے خلاف جاسوسی کےالزامات کی بھی تردید کی ہے۔

John Brennan Nominierung neuer CIA Chef
سی آئی اے کے سربراہ جان بریننتصویر: REUTERS

جان برینن کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے پر مزید غور کریں گے۔ انہوں نے کہا: ’’میں اس بات کا تعین ان پر چھوڑتا ہوں کہ اصولوں یا قانون کی کوئی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہے تو میں صدر کے پاس جاؤں گا اور وہی مجھ سے کہہ سکیں گے کہ میں رکوں یا گھر چلا جاؤں۔‘‘

سی آئی اے نے بھی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے عملے پر غیرمناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے شہریوں کی جاسوسی کے انکشاف سے تمام امریکی خفیہ ایجنسیوں کی وسیع تر جانچ ہو رہی ہے۔

یہ انکشافات اس ایجنسی کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے کیے تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے خفیہ دستاویزات ذرائع ابلاغ کو فراہم کر دی تھیں جس کے بعد وہ امریکا سے فرار ہو گئے تھے۔

سنوڈن پہلے تو ہانگ کانگ چلے گئے تھے جہاں سے وہ ماسکو پہنچے۔ بعدازاں روس نے انہیں عارضی پناہ دے دی تھی اور تب سے وہ وہیں مقیم ہے۔