1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سویڈن کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ

عابد حسین4 اکتوبر 2014

یورپی ملک سویڈن کے وزیراعظم نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ اُن کا ملک فلسطین کو بحیثیت ریاست کے تسلیم کر لے گا۔ اس طرح سویڈن فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا یورپی یونین کا پہلا مغربی یورپی ملک ہو گا۔

https://p.dw.com/p/1DPe4
سویڈن کے نئے وزیراعظم اسٹیفان لُوویانتصویر: Reuters/P. Lundahl

وزیراعظم اسٹیفان لُوویان (Stefan Loefven) نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ اُن کا ملک اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کو تقویت دینا چاہتا ہے۔ سویڈش حکومت کے فیصلے پر امریکا کا ردِ عمل سامنے آیا ہے اور کہا گیا کہ یہ فیصلہ وقت سے پہلے کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی لیڈران نے اسٹاک ہولم حکومت کے فیصلے کا پرجوش انداز میں خیرمقدم کرتے ہوئے اِسے ایک دلیرانہ قدم قرار دیا اور بقیہ یورپی یونین کے رُکن ملکوں سے بھی کہا گیا کہ وہ بھی سویڈن کی پیروی کریں۔

وزیراعظم اسٹیفان لُوویان نے گزشتہ ماہ جنرل الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی اور پارلیمنٹ میں منصب وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد اعتماد کا ووٹ ملنے پر پہلی تقریر میں واضح کیا کہ دو ریاستی حل اصل میں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے اور ساتھ ساتھ رہنے کا طلب گار ہے۔ لُوویان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اُسی صورت میں ممکن ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے جائز مطالبات کا احترام اُسی انداز میں کیا جائے، جس طرح اسرائیل اپنے حقِ دفاع اور سلامتی کا احترام چاہتا ہے۔ سویڈن میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی حالیہ الیکشن میں سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن کر ابھری ہے اور اُس نے انتخابی مہم میں یہ کہا تھا کہ حکومت سازی کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی عالمی مہم کا حصہ بنتے ہوئے مصالحتی عمل کو تیز کرے گی۔ انتخابی مہم میں سویڈن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے منشور میں بیان کیا تھا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کی تفتیش کی جائے اور غزہ کی ناکہ بندی بھی ختم کیا جائے۔

London Proteste gegen Israel
ایک سو سے زائد ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیںتصویر: Reuters

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا قبل از وقت ہے اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب مذاکراتی عمل سے کوئی نتیجہ حاصل ہو۔ جین ساکی کے مطابق فریقین ایک ایسی قرارداد پر سمجھوتہ کر لیں جس میں حتمی ریاست کے معاملات واضح ہوں اور اِن پر دونوں فریق متفق بھی ہوں۔ جین ساکی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا یقینی طور پر فلسطینی ریاست کی تشکیل کا حامی ہے اور صرف اسرائیلی اور فلسطینی ہی طے کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پہلُو بہ پہلُو کس طرح دو ریاستوں میں آباد ہونا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات نے یورپی یونین کی بقیہ ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ سویڈن کی تقلید کریں۔

سویڈن کی نئی خاتون وزیر خارجہ مارگٹ وال اسٹرُوم (Margot Wallstroem) کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے سویڈن اُن 130 ملکوں کی کمپنی شامل ہو جائے گا جنہوں نے ایسا کر رکھا ہے۔ یورپی یونین اور بحیرہٴ روم کے کنارے پر آباد براعظم یورپ کے علاوہ خاص طور پر مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے سات یورپی یونین کے رکن ملکوں نے پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، ان میں بلغاریہ، قبرص، چیک جمہوریہ، ہنگری، پولینڈ اور رومانیہ شامل ہیں۔ یورپی یونین کے غیر رکن مغربی ملک آئس لینڈ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رکھا ہے۔ نیوز ایجنسی فرانس کے مطابق 112 ملکوں نے فلسطین کو بحیثیت ریاست تسلیم کر رکھا ہے جبکہ فلسطینی لیڈران یہ تعداد 134 بیان کرتے ہیں۔