1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اہم کیوں؟

15 اپریل 2024

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں ایک وفد پیر کو پاکستان پہنچ رہا ہے۔ اگلے ہفتے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ بھی متوقع ہے۔

https://p.dw.com/p/4elR8
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد پیر پندرہ اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہا ہےتصویر: Hadi Mizban/AP Photo/picture alliance

پاکستان دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد پیر پندرہ اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہا ہے۔

یہ وفد صدر پاکستان، وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور دیگر وزراء سمیت آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ عہدیدارو ں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ سعودی وفد میں پانی اور زراعت کے وزیر، وزیر صنعت، نائب وزیر سرمایہ کاری نیز وزارت توانائی اور سرمایہ کاری کے اعلیٰ عہدیداران بھی شامل ہیں۔

شہباز شریف اور محمد بن سلمان میں کیا باتیں ہوئیں؟

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر سعودی عرب میں

پاکستان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، " اس دورے کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا اور باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری کو مثبت ترغیب دینا ہے۔"

یہ دورہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ وسیع پیمانے پر دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب کے دورے کے ایک ہفتے سے زائد عرصے کے بعد ہو رہا ہے۔

اس ملاقات کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے توثیق کی ہے کہ وہ پانچ ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکج کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

سعودی عرب نے پاکستانی اسٹیٹ بینک میں دو بلین ڈالر جمع کرا دیے

آج کا سعودی عرب اور ہمارے جذبات

پاکستان دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی وفد کے ساتھ بات چیت 7 اپریل کو سعودی ولی عہد کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات کے دوران ''بنیادی طور پر طے شدہ مفاہمت" پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

سعودی وزیر خارجہ کے دورے کی اہمیت

نقدی کی کمی کا شکار پاکستان اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنے کے لیے سعودی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ مزید برآں اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو یہ اشارہ دینا ہے کہ اسلام آباد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایسے مطالبات کو پورا کر سکتا ہے، جو پچھلے بیل آؤٹ پروگراموں میں عالمی قرض دہندہ کی طرف سے اہم ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مضبوط تجارتی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ سعودی عرب میں ستائیس لاکھ سے زائد پاکستانی تارکین وطن رہتے ہیں اور یہ پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سعودی عرب اکثر پاکستان کی مالی مدد کرتا رہا ہے اور ادائیگیوں میں تاخیر کے باوجود اسے تیل فراہم کرتا ہے۔

پاکستانی سرکاری میڈیا نے اتوار کے روز ایک رپورٹ میں کہا کہ سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد ملک کے مغربی صوبے بلوچستان کے علاقے ریکوڈک میں تانبے اور سونے کی کان کے پروجیکٹ میں سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔

ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف جلد ہی وزارت خزانہ کے حکام اور دوسرے فریقین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں گے تاکہ سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری کے عمل کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے، " اس سرمایہ کاری کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کان کنی کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کے معاہدوں پر بھی دستخط کریں گے۔"

سعودی وزیر خارجہ کا دورہ اس تناظر میں بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی بھی 22 اپریل کو پاکستان آمد متوقع ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا یہ دورہ مقررہ پروگرام کے مطابق ہی ہوگا یا مشرق وسطیٰ کے نئے حالات کے مدنظر اس میں ترمیم ہوسکتی ہے۔

 ج ا/  ع ب (روئٹرز، خبر رساں ادارے)