1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تھائی لینڈ اور لاؤس میں ڈینگی بخار کے مریضوں میں اضافہ

زبیر بشیر23 جولائی 2013

گرم مرطوب خطوں کی بیماری ڈینگی بخار سے لاؤس میں 74 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ وینتیان کے طبی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں برس اس بیماری سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

https://p.dw.com/p/19CG1
تصویر: picture-alliance/dpa

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق لاؤس میں اس سال ڈینگی بخار کے 27 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ماہرین اس کی وجہ پڑوسی ملک تھائی لینڈ میں بڑھتے ہوئے ڈینگی کیسسز کو قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک لاکھ بیس ہزار افراد اس مرض کا شکار ہوئے۔

لاؤس کے ادارہ برائے متعدی امراض کے سربراہ باؤنلے فوماچک نے ملک میں بڑھتے ہوئے ڈینگی کیسسز کے تناظر میں کہا، ’’ ہمیں اموات میں اضافے کا خدشہ ہے کیوں کہ ڈینگی بخار سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔‘‘

Flash-Galerie Pakistan Lahore Denguefieber
جنوب مشرقی ایشیاء میں پھلنے والی اس بیماری کے مریض اب کئی مغربی ممالک میں بھی دیکھے جارہے ہیںتصویر: DW

ذرائع کے مطابق لاؤس میں ڈینگی بخار نے اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ رکھیں ہیں۔ اس بخار کے باعث گذشتہ ہفتے ہونے والی ہلاکتوں میں ملک کے ابھرتے ہوئے سیاسی رہنما میجر جنرل سان ہاہک فوم ویھانے بھی شامل ہیں۔ پینتالیس سالہ سان ہاہک سابق صدر کے سون فوم ویھانے کے صاحبزادے تھے۔ انہیں یہ ڈینگی بخار ملک کے جنوبی صوبے اتاپیو کے سرکاری دورے کے دوران لاحق ہوا۔ وہ تین دن ہسپتال میں زیرِ علاج رہے تاہم جانبر نہ ہوسکے۔ ان کا انتقال 17 جولائی کو ہوا۔

باؤنلے فوماچک کے مطابق ڈینگی سے نجات کا واحد راستہ یہی ہے کہ اس بخار کا باعث بننے والے مچھروں کے افزائش کے مقامات کو فوری طور پر تلف کیا جائے۔ اس حوالے سے ہفتہ وار کام کرنے کی ضرورت ہے۔

A team of Srilankan Doctors is visiting Pakistan these days to help authorities in combating dengue virus. Srilankan Doctors, in order to study the nature of dengue virus which causing fever, are getting samples of contaminated water from affected area of Lahore. Foto: DW Correspondent in Lahore Mr. Tanvir Shahzad
ڈینگی کا خاتمہ مچھروں کی افزائش کے مقامات کو فوری طور پر تلف کرنے سے ہی ممکن ہےتصویر: DW

ڈینگی بخار ایک وائرل بیماری ہے جو ایک مخصوص مادہ مچھر ایڈیز ایجپتی کے کاٹنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ مچھر گھریلو مچھر کہلاتا ہے اور گھروں کے اندر اور آس پاس موجود صاف پانی میں پرورش پاتا ہے۔ یہ مـچھر زیادہ تر سورج طلوع ہونے اور ڈوبنے کے اوقات میں کاٹتا ہے۔ جس کے بعد ڈینگی بخار کا حملہ شروع ہوجاتا ہے اور کچھ دنوں کے لیے اس کے اثرات جسم کے اندر موجود رہتے ہیں۔ ڈینگی بخار ان لوگوں میں زیادہ دیکھنے میں آیا ہےجن میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔

تھائی لینڈ میں رواں برس کے دوران ڈینگی کے 59318 کیسز رجسٹرڈ ہوئے اور 68 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوئے۔ جولائی کے پہلے ہفتے میں ڈینگی کے پانچ ہزار نئے کیسز اور چھ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ڈینگی مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ تاہم اس سال مادیرا، پرتگال، فرانس، میامی اور فلوریڈا میں بھی ڈینگی کیسز دیکھنے میں آئے ہیں۔ ماہرین ان اس کی وجہ عالمی حدت قرار دیا ہے۔