1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکا اور جرمنی کے درمیان جاسوسی کے معاملے پر ’مذاکرات جاری‘

ندیم گِل15 جنوری 2014

جرمنی اور امریکا نے واضح کیا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی نہ کرنے کے معاہدے کے لیے بات چیت بدستور جاری ہے۔ اس سے قبل جرمن ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ یہ مذاکرات ناکامی کے قریب ہیں۔

https://p.dw.com/p/1AqbZ
تصویر: Reuters

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ برلن اور واشنگٹن حکومتوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی نہ کرنے کے معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کا کہنا ہے کہ میرکل نے یہ بات ایک پارلیمانی گروپ کو بتائی ہے۔

اس اجلاس کے شرکاء کے مطابق چانسلر میرکل نے یہ بھی کہا کہ البتہ نظریاتی اختلافات حل طلب ہیں۔ اُدھر واشنگٹن میں بھی امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کی ایک ترجمان نے بتایا کہ جرمنی کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔

قبل ازیں جرمن ذرائع ابلاغ نے بات چیت میں شامل جرمن وفد کے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکا اور جرمنی کے درمیان جاسوسی کے معاملے پر بات چیت ناکام ہو سکتی ہے۔ ان مذاکرات کے قریبی ذرائع میں سے ایک نے میونخ کے روزنامہ زُ‌ودڈوئچے سائٹنگ سے بات چیت میں کہا تھا: ’’ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا۔‘‘

اس اخبار اور سرکاری نشریاتی ادارے این ڈی آر نے بتایا تھا کہ جرمن وفد اتحادیوں کے مابین جاسوسی روکنے کے معاہدے کے لیے بڑی حد تک اُمید کھو چکا ہے۔

Secusmart Abhörskandal NSA Deutschland
برلن اور واشنگٹن کے درمیان ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرنے کے معاہدے پر بات چیت جاری ہےتصویر: PATRIK STOLLARZ/AFP/Getty Images

ان میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے جرمن سیاستدانوں کی جاسوسی نہ کرنے کا وعدہ دینے سے انکار کیا ہے۔ زُود ڈوئچے سائٹنگ کے مطابق امریکا نے گزشتہ برس اگست میں اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ جرمنی کے خلاف جاسوسی روک دے گا جس کے بعد برلن حکومت فوری معاہدے کے لیے پُرامید تھی۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق ایک اعلیٰ جرمن اہلکار کا کہنا تھا: ’’امریکیوں نے ہم سے جھوٹ بولا۔‘‘ اس اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ مذاکرات کی ممکنہ ناکامی کی خبروں پر متعدد جرمن سیاستدانوں نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا۔ سائٹ آن لائن کے مطابق سی ایس یو کے اشٹیفان مائیر کا کہنا تھا: ’’امریکا بھلے ہی ہمارا قریبی ساتھی ہے، ہمیں اسے اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دینی ہو گی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ بات چیت ناکام رہی تو یہ جرمن حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔ میرکل کے اتحادی ساتھیوں کے پارلیمانی رہنما تھوماس اوپرمان کا کہنا تھا کہ ناکامی ناقابلِ قبول ہو گی۔

اے ایف پی کے مطابق اعلیٰ امریکی اہلکار گزشتہ کچھ مہینوں سے یہ عندیہ دیتے آئے ہیں کہ وہ کُلی طور پر جاسوسی روکنے کے معاہدے پر متفق نہیں ہو گے۔ وہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ جرمنی کے ساتھ ایسے معاہدے کی صورت میں دیگر ملک بھی یہی مطالبہ کریں گے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید