اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے ایران کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں تہران حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جون کے متنازعہ انتخابات کے بعد سیاسی حریفوں پر قائم کئے گئے مقدمات بند کرے۔
اس قرارداد میں انتخابات کے بعد مظاہروں کے دوران گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی نے یہ قرار داد اڑتالیس کے مقابلے میں چوہتر ووٹوں سے منظور کی ہے جبکہ انسٹھ ارکان غیرحاضر تھے۔ قرار داد میں آزادئ اجتماع اور رائے کا اظہار کرنے والے ایرانی شہریوں کی گرفتاریوں کو ظالمانہ قدم قرار دیا گیا ہے۔
یہ قرارداد اقوام متحدہ میں پیش کی جائے گی
کمیٹی نے انتخابات کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سیاسی مخالفین پر تشدد کی مذمت بھی کی ہے۔ کمیٹی نے موقف اختیار کیا ہے کہ سیاسی مخالفین سے دوران حراست جبراﹰ اعتراف جرم کرایا گیا، قیدیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھا گیا جبکہ خواتین کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ انتخابات کی مخالفت پر تہران حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی جبکہ اپوزیشن کے
ایرانی صدر احمدی نژاد
کارکنوں، صحافیوں، وکلاء، علماء، ماہرین تعلیم اور طلبا کو بالخصوص نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
اس قرار داد کا مسودہ کینیڈا نے پیش کیا، جو آئندہ مرحلے میں منظوری کے لئے اقوام متحدہ کے ایک سو بانوے ارکان کے سامنے پیش کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عالمی ادارے کے رکن ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی منظوری یقینی ہے۔ اُدھر اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے سفیر محمد خازائی نے کہا ہے کہ یہ قرارداد سیاسی بنیادوں پر اٹھائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے بیشتر ممالک اس کی حمایت نہیں کرتے۔
ایران میں بارہ جون کے متنازعہ انتخابات کے نتیجے میں احمدی نژاد دوسری مدت کے لئے صدر بنے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابات میں وسیع تر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ تہران حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت رد عمل دیکھا گیا۔
رپورٹ: ندیم گِل
ادارت: عابد حسین