1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

آپ کی بات آپ کے ساتھ

پاکستانی لسنرز کلب

محمد یونس نے سن انیس سو تراسی میں مظفرگڑھ میں پہلے لسنرز کلب کی بنیاد رکھی۔شروع شروع میں اس کلب کی سرگرمیاں بہت زیادہ رہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک ریڈیو لسنر سامنے آئے ۔

میرا نام شیخ محمد یونس ہے۔ میرا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع مظفرگڑھ سے ہے۔ یہ شہر مختلف حوالوں سے مشہور ہے۔ اس کی وجہ شہرت آم اور کھجور ہیں۔ اس علاقے میں آم اور کھجور کثرت سے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مظفرگڑھ سیاست کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے مغربی پاکستان کے پہلے گورنر نواب مشتاق احمد گورمانی کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا۔

اسی طرح بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان اور شیر پنجاب ملک غلام مصطفٰے کھر جیسے سیاستدانوں کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔صوبہ پنجا ب کے پانچ دریا بھی پنجند کے مقام پر اسی ضلع میں اکھٹے ہو تے ہیں۔مظفرگڑھ میں بہت سے میگا پراجیکٹ بھی کام کررہے ہیں۔ جیسے تھرمل پاور پراجیکٹ مظفرگڑھ، کوٹ ادو پاور پلانٹ، لعل پیر تھرمل پاور پلانٹ محمود کوٹ، اس کے علا وہ محمو د کوٹ آئل ریفائنری اور ایشیا کا ایک بڑا منصوبہ پارکو یا پاک عرب آئل ریفائنری۔ علاوازیں جیوٹ ملز، کاٹن ، ٹیکسٹائل ملز، شوگر ملز اور بے شمار چھوٹے صنعتی منصوبے وغیرہ۔

ریڈیو سننا میرا مشغلہ ہی نہیں۔بلکہ عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ ریڈیو سننے کا شوق کہہ لیجئے کہ وارثت میں ملا ہے۔ دراصل میرے والد محترم کو گھر میں ریڈیو سنتے ہوئے دیکھا تو مجھ کو بھی ریڈیو سننے کا شوق ہوا۔وہ مختلف ریڈیو اسٹیشن سنتے تھے جیسے کہ بی بی سی، ریڈیو ڈوئچے ویلے، ریڈیو چین،ریڈیو ماسکو، وائس آف امریکہ، ریڈیو تہران، ریڈیو جدہ وغیرہ۔ باقاعدگی کے ساتھ 1978سے ریڈیو سننا شروع کیا۔ ان دنوں بی بی سی ، ریڈیو ماسکو، اور ریڈیو زاہدان کی نشریات صاف سنائی دیتی تھیں۔اس لئے یہی ریڈیو سنتا تھا جبکہ جب کبھی ریڈیو ڈوئچے ویلے اور ریڈیو پیکنگ لگ جا تا تھا توسنتے تھے۔

1983میں چوہدری نذیر احمد سے ملاقات ہوئی جو میری طرح ریڈیو سننے کے شوقین تھے۔ اور یوں ہم نے ملکر مظفرگڑھ میں مل کر پہلے لسنرز کلب کی بنیاد رکھی۔شروع شروع میں اس کلب کی سرگرمیاں بہت زیادہ رہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک ریڈیو لسنر سامنے آئے ان میں جناب عمران شاہین ، الیاس مسیح، سرفراز احمد خانزادہ، شیخ محمد اسلم ، شیخ محمد اکرم، سید اقبال حسین شاہ، ضیغم خان، سید ضرغام حیدر، اصغر اقبال بھٹی، اکبر جاوید اور بہت سے۔ کلب کی کارکردگی خاصی اچھی رہی اور 1986 میں ہمارے کلب نے ریڈیو ڈوئچے ویلے سے بہترین کارکردگی پر ریڈیو انعام حاصل کیا جبکہ ہمارا کلب بعد میں رجسٹر ہوا۔کلب ممبران نے بے تحاشہ خطوط لکھے اور مختلف ریڈیو اسٹیشنو ں سے ا نعامات حاصل کئے۔اور پھر اس کے بعد ایک اور کلب بنا اور پھر اس کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا اور پھر ایک سلسلہ چل نکلا۔

چونکہ میری سروس کا زیادہ تر عرصہ ضلع لیہ میں گرزا ہے۔ اس لئے لیہ شہر میں اپنے ہم مشغلہ دوست تلاش کرکے لیہ کا پہلا لسنرز کلب قائم کیا گیا۔ جس کے صدر اکبر جاوید صاحب اور بعد میں راجہ مختار احمد راہی اور افتخار اسلم خان صاحب رہے۔اسی طرح میلسی کا پہلا لسنرز کلب جو قائم ہوا وہ بھی بندہ ناچیز کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ عابد حسین ساجد صاحب میرے کزن ہیں جنھوں نے میلسی کے پہلے لسنرز کلب کی بنیاد رکھی۔ تو دوستو۔ یوں سمجھئے کہ لسننگ میرا اوڑھنا بچھونا رہی۔اور ہے۔

1989میں لاہور کے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر گوئبل گروس اور شہلا علاوءالدین سے ملاقا ت ہوئی۔ اور پھر اس کے بعد جناب پیٹرسن صاحب سے ملنے کا بھی اتفاق ہوا جو آڈینس میل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے۔غرضیکہ بہت سی یادیں ڈوئچے ویلے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ جہاں تک خط و کتابت کا تعلق ہے۔ تو شروع ہی سے محترمہ سائرہ حسن شیخ صاحبہ سے رابطہ رہا۔جو لسنرز کلبوں کے ساتھ خط و کتابت کی ذمہ داری نبھاتی آرہی ہیں۔ مجھے یاد ہے ہمیں جرمن سفارت خانے سے رسالہ معلومات جرمنی اور جرمن رسالہ ڈوئچ لینڈ آیا کرتا تھا جو اب نا پید ہوگیا ہے۔اسی طرح ریڈیو ڈوئچے ویلے کا رسالہ ہیلو فرینڈز اور بعد میں ٹیون ان رسالے آتے رہے۔ جو اب آواز کی دنیا کے شکل اختیار کر چکا ہے۔اور اب شاید یہ رسالہ بھی۔۔۔۔۔؟ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

اگر اردو سروس کے سٹاف کی بات کی جائے تو بہت سے نام ذہن سے محو ہو چکے ہیں۔ اور اگر میں اپنی یاد اشت پر زور دوں تو مجھے یا د ہے کچھ ذرا ذرا جیسے ڈاکٹر گوئبل گروس، اعجاز حسین، شہناز حسین، یونس سوز، امتیاز گل، مقبول ملک اور سائرہ حسن شیخ صاحبہ،اور بہت سے دوسرے جن کے نام اب ذہن میں نہیں ہیں۔ان سے معذرت ۔

آج کل جو پروگرام آپ کی محفل نشر ہوتا ہے۔ اس کانام پہلے خطوط کے جوابات اور آپ کی فرمائش ہوا کرتا تھا۔ اس پروگرام کو گوئبل گروس، اعجاز حسین اور شہناز حسین پیش کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام کی دھن انتہائی خوبصورت ہوا کرتی تھی۔

شاید بہت سے پرانے سامعین کے ذہنوں میں یہ دھن موجود ہو۔پہلے اردو نشریات دن میں صرف ایک بار پیش کی جاتی تھی۔پھر مسلئہ افغانستان کی وجہ سے دن میں دو مرتبہ پیش کی جانے لگیں اور سال 2006 سے یہ نشریات دن میں تین مرتبہ پیش کی جاتی ہیں۔ پہلے پروگرام آپ کی محفل میں صرف خطوط کے جوابات دئے جاتے تھے اب ای میلز، وائس کال کے ساتھ ساتھ sms بھی نشر کی جاتی ہیں۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ریڈیو ڈوئچے ویلے کی اردو نشریات بتدریج ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اور کامیابیوں کی جانب رواں دواں ہے۔اور ترقی کا یہ سفر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ انشاءاللہ تعالیٰ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حا می و ناصر ہو۔

آپ سب کا

شیخ محمد یونس

صدر پاکستانی لسنرز کلب

شیخ ہاﺅس غوث کالونی

مظفرگڑھ۔ پاکستان

اس کیٹیگری سے مزید