1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تینوں ہندو لڑکیوں کو ان کی مرضی سے رہنے دیا جائے، سپریم کورٹ

18 اپریل 2012

پاکستان میں سپریم کورٹ نے مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول کرنے اور اپنی مرضی سے شادی کرنے والی تین ہندو لڑکیوں کو ان کی مرضی کے مطابق رہنے دینے کا حکم جاری کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/14fnt
تصویر: dapd

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مذہب کی جبری تبدیلی کے حوالے سے پاکستان ہندو کونسل کی درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر سندھ پولیس نے تین سابق ہندو لڑکیوں رنکل کماری ( فریال ) ڈاکٹر لتا ( ڈاکٹر حفضہ ) آشا کماری ( حلیمہ بی بی ) کو عدالت میں پیش کیا۔ ڈاکٹر حفضہ کے شوہر نادر بیگ کے وکیل مجیب پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے لڑکی کو اغواء نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے شادی کی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ پولیس اس جوڑے کو حراساں کر رہی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی کے ساتھ زبردستی نہیں ہونے دیں گے یہ لڑکیاں اس ملک کی شہری ہیں اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کرے۔

سماعت کے دوران جیکب آباد سے تعلق رکھنے والی حلیمہ بی بی ( آشا کماری ) نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور وہ اپنے شوہر بشیر احمد کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ عدالت نے سندھ پولیس کو ان لڑکیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی موجودگی میں تینوں لڑکیوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں اور وہ جہاں بھی جانا چاہیں انہیں جانے دیا جائے۔

اس موقع پر عدالت میں لڑکیوں کے لواحقین خصوصاً والدین نے احتجاج کیا ۔ آشا کماری کے والد موہن داس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’میری بیٹی کو اغواء کیا گیا ہے پہلے ہم سے 18 لاکھ روپے لیے گئے اور پھر 35 لاکھ کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہمارے ساتھ بہت ظلم ہو رہا ہے ۔ ہمیں ملک چھوڑ کر بھارت جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے انصاف نہیں کیا ‘‘۔

حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی رمیشن لال اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی آریش کمار نے بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کی۔ رمیشن لال کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس یوں تو ہر بات پر از خود نوٹس لیتے ہیں لیکن انہیں اقلیتوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی نظر نہیں آتی۔ البتہ دونوں اقلیتی رہنماؤں نے اس بات کا جواب دینے سے گریز کیا کہ پارلیمان نے ابھی تک جبراً مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے قانون سازی کیوں نہیں کی۔

دوسری جانب سندھ کے ضلع گھوٹکی کی درگاہ بھرچونڈی شریف کے گدی نشین اور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالحق اور ان کے ساتھیوں کے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔ میاں عبدالحق کے صاحبزادے میاں اسلم کا کہنا تھا ’’عدالتی فیصلے نے ہم پر لگنے والے ان الزامات کو غلط ثابت کر دیا کہ ہم زبردستی ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرا کر ان کی شادیاں کرواتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’ تینوں لڑکیاں اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں اور اگر آئندہ بھی ہندو لڑکیاں تبدیلی مذہب کے لیے آئیں گی تو وہ ان کی مدد کرینگے‘‘۔

دریں اثناء عدالت نے حکومت کو مذہب کی جبری تبدیلی کے حوالے سے قانون سازی کے بارے میں دو ہفتوں میں جواب طلب کر تے ہوئے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی۔

ریورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت : عدنان اسحاق