پاکستان میں متنازعہ میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی سے پہلا رابطہ 2 مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے اگلے روز ہوا تھا۔
حسین حقانی
بدھ کے روز میمو کی تحقیقات کے لیے اسلام آباد میں قائم عدالتی کمیشن کو لندن سے وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے منصور اعجاز نے زیادہ تر انہی باتوں کو دہرایا جو وہ تحریری طور پر بھجوا چکے ہیں۔
منصور اعجاز نے حلف اٹھانے کے بعد ویڈیو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ وہ سن 2009ء میں حسین حقانی کی موجودگی میں صدر زرداری سے ملاقات کے علاوہ سابق صدر پرویز مشرف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی احسان الحق سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا سے ان کی ملاقات 22 اکتوبر2011ء کو لندن میں ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی میرے حسین حقانی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ منصور اعجاز نے کہا کہ جب 9 مئی کو ان کی حسین حقانی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تھی تو اس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر زرداری پر فوج دباؤ ڈال رہی ہے۔ ’انہوں نے مبینہ طور پر مجھے ایسے نکات بھی لکھوائے تھے جو وہ چاہتے تھے کہ ایڈمرل مولن تک پہنچائے جائیں اور اس میں ایک نئی سیکورٹی ٹیم تشکیل دینے کی بات بھی تھی‘۔
مبینہ میمو مراسلے میں پاکستانی قیادت نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد فوجی بغاوت کے خطرے کے پیش نظر امریکہ سے مدد مانگی تھی
ادھر منصور اعجاز کے بیان ریکارڈ کرانے سے قبل حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے لندن جانے کے لیے مہلت کی درخواست کی تا کہ وہ خود براہ راست منصور اعجاز پر جرح کر سکیں۔ عدالت نے ان کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری طورپر تو نہیں لیکن بعد میں لندن جانے اور جرح کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
سینئر پاکستانی صحافی مجاہد بریلوی کا کہنا ہے کہ حسین حقانی کے وکیل کے بارہا اعتراضات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حکومت اس معاملے کو طول دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’سوال یہ ہے کہ آٹھ دن میں لندن کا ویزہ مل جاتا ہے۔ سب کو معلوم تھا کہ 22 تاریخ کو منصور اعجاز کا بیان ریکارڈ ہو گا تو اس کے لیے انہوں نے ویزے کی درخواست پہلے کیوں نہیں دی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت زیادہ سے زیادہ وقت چاہتی ہے تا کہ معاملے کو طول دیا جا سکے‘۔
سپریم کورٹ نے میمو کیس کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دے رکھا ہے
امریکی شہری منصور اعجاز نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی سویلین قیادت نے فوجی رہنماؤں کی جانب سے بغاوت کے خطرے کے پیش نظر ایک خفیہ مراسلے کے ذریعے اس وقت کے امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن سے مدد مانگی تھی۔
اس انکشاف کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک بھونچال آ گیا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور تین رکنی عدالتی کمیشن قائم کیا جو اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز سکیورٹی خدشات کی وجہ بیان کرتے ہوئے کئی مرتبہ پاکستان آنے کے اشارے دینے کے باوجود یہاں گواہی کے لیے نہیں آئے اور اب انہوں نے وڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے جس پر حسین حقانی کے وکیل کو مسلسل اعتراض ہے۔
رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد
ادارت: حماد کیانی