1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران: خواتین سرکاری افسران کے لیے یونیفارم کی شرط

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران حکومت نے سرکاری ملازمتیں کرنے والی خواتین کے لیے یونیفارم پہننا لازمی کر دیا ہے۔

ایرانی حکومت کے مطابق خواتین سرکاری اہلکاروں پر اکیس مارچ سے یونیفارم زیب تن کرنے کی شرط لگا دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس یونیفارم کو جامعات کے پروفیسروں اور ایران کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے۔

ایران کے اسلامی قوانین کی رو سے ملک میں خواتین کو ویسے ہی لمبے چوغے اور اسکارف پہننا پڑتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے لباس کے حوالے سے پہلے ہی سے سخت شرائط موجود ہیں جبکہ لبرل ایرانی حلقے ویسے ہی اس کے خلاف ہیں۔

ایران میں سخت اسلامی قوانین نافذ ہیں

مدیحہ ایم تہران کے ایک سرکاری دفتر میں کام کرتی ہیں۔ یونیفارم پہننے کی اس نئی شرط کے بارے میں وہ کہتی ہیں: ’’یونیفارم کے جو نمونے میں نے دیکھے ہیں، وہ تقریباً اسی طرح کے ہیں جو ہم اس وقت پہنتے ہیں، تاہم سینتالیس برس کی عمر میں یونیفارم پہننے کی شرط احمقانہ ہے اور یہ بات مجھے اسکول کے زمانے کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

ایرانی اسٹیٹ بینک کی ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی حکومت نے یہ کوشش کی تھی کہ تمام خواتین ایک سی لگیں، مگر وہ کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے اس نئی کوشش کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

تہران حکومت کے مطابق اس نے یونیفارم کی تیاری کے لیے ایک سروے کروایا تھا جس کے بعد یونیفارم کے رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالا رکھے گئے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ لباس سے متعلق ایسا ہی ایک لازمی ضابطہ جلد ہی سرکاری دفاتر کے مرد اہلکاروں کے لیے بھی نافذ کر دیا جائے گا۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک