شمال مشرقی بھارت میں محققین نے ایک نادر سائنسی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کیچڑ کی کھدائی کے دوران پانی اور خشکی دونوں پر زندگی گزارنے کے قابل جانداروں یعنی ایمفیبیا کا ایک نیا زمرہ دریافت کیا ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ بغیر ٹانگوں اور دم والی یہ مخلوق سانپ سے ملتی جلتی ہے اور زمین میں بل بنا کر رہتی ہے۔ اسے ان سائنسدانوں نے دریافت کیا جو سکّم، اروناچل پردیش اور ناگالینڈ سمیت دیگر بھارتی ریاستوں میں عرصہ پانچ سال سے کام کر رہے تھے۔
دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ایس ڈی بیجو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ’ڈی این اے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ ایمفیبیا کا ایک بالکل نیا زمرہ ہے‘۔
پروفیسر بیجو اس منصوبے کے ٹیم رہنما تھے جس میں برطانیہ اور بیلجیم سے تعلق رکھنے والے محققین بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا، ’دنیا بھر میں خشکی اور تری کی مخلوق کے مساکن کی تباہی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس طرح کی دریافتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں قدرتی دنیا کے ان حصوں کو بچانے کے لیے ماحول کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے جن کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں‘۔
بیجو نے کہا کہ اس مخلوق کی تلاش میں ڈھائی سو سے زائد مقامات پر بیلچوں کی مدد سے کھدائی کرنا جسمانی لحاظ سے ایک دشوار کام تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مخلوق 20 سینٹی میٹر (آٹھ انچ) لمبی اور اکثر زمین میں 25 سینٹی میٹر کی گہرائی میں موجود ہوتی ہے۔
یہ نیا زمرہ خشکی اور تری کے جانداروں کے سی سیلیئن گروپ کا دسواں حصہ ہے اور اسےگارو قبائلی زبان کے لفظ چِکی لِڈی سے موسوم کیا گیا ہے۔
بیجو نے کہا کہ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے شمال مشرقی علاقے جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظاموں سے مالا مال ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں اس خطے کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے‘۔
تحقیق کے مطابق بھارت میں ان بے ضرر جانداروں کو درپیش ایک اور خطرہ مقامی افراد سے ہے جو انہیں زہریلے سانپ سمجھ کر ہلاک کر دیتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج رائل سوسائٹی آف لندن کے جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔
رپورٹ: حماد کیانی
ادارت: مقبول ملک