
امریکی فوجی اڈے پر قرآن کے نسخے جلانے کے واقعے کے بعد افغانستان میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ امریکی فوجی قیادت نے اس واقعے کو غیر دانستہ قرار دیتے ہوئے معذرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
قرآن جلانے کے واقعے کے دوسرے روز ہزاروں افغانیوں نے کابل سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج کیا۔ مظاہرین ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے جبکہ راستے میں آنے والی کئی دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ دارالحکومت کابل اور مشرقی شہر جلال آباد میں مظاہروں کے دوران کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت اور 21 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان مظاہروں میں امریکی صدر باراک اوباما کے پتلے بھی جلائے گئے۔
سینکڑوں افراد نے جلال آباد روڈ پر واقع امریکی فوجی کیمپ پر پتھراؤ کیا
امریکہ نے کابل میں اپنے سفارتخانے کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ مظاہرین کے ایک گروہ کو امریکی سفارتخانے کی جانب جانے سے روکتے ہوئے پولیس کی طرف سے فائرنگ بھی کی گئی۔ امریکی سفارتخانے نے اپنے تمام اہلکاروں کو ملک بھر میں سفر نہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر کے مطابق سینکڑوں افراد نے جلال آباد روڈ پر واقع امریکی فوجی کیمپ پر پتھراؤ کیا، جہاں سکیورٹی اہلکار بھاری تعداد میں تعینات تھے۔ اس خبر رساں ادارے کے مطابق یہاں سے پاکستانی سرحد کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا گیا۔
دریں اثناء مظاہرین نے کابل کے گرین ویلج کمپلیکس میں واقع غیر ملکی کارکنوں کی کئی رہائش گاہوں کو آگ لگا دی ہے۔ اس کمپلیکس میں پندرہ سو کے قریب غیر ملکی کارکن رہائش پذیر ہیں۔
واقعے کے دوسرے روز ہزاروں افغانیوں نے کابل سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج کیا
دوسری جانب افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے اس واقعے پر معذرت کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس واقعے کے عام ہونے کے بعد گزشتہ روز بگرام ایئر بیس کے باہر کم ازکم دو ہزار افغانیوں نے امریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔
وائٹ ہاؤس نے اسلامی تحریری مواد اور قرآن کے نسخوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اس واقعے کو ایک غیر دانستہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی مذہبی تعلیمات کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کا بغور جائزہ لیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق بگرام ایئر بیس کے قیدیوں سے ایسا مواد قبضے میں لیا گیا تھا، جو امریکی افواج کے مطابق مشتبہ طور پر طالبان آپس میں پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ روئٹرز نے صوبائی گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ عوامی احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب بگرام ایئر بیس کی صفائی کرنے والے افغانیوں نے وہاں مبینہ طور پر نذر آتش کیے گئے قرآنی نسخے دیکھے۔
رپورٹ: امتیاز احمد
ادارت: حماد کیانی