
روسی سائنسدانوں نے تیس ہزار سال پرانے پھلوں کے بیجوں سے پھلدار اور توانا درخت اگانے کا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بیج گلہریوں نے سائبیریا کے برفیلے میدانوں کی تہہ میں دبا رکھے تھے۔
روسی ماہرین کے مطابق سلین نامی یہ خوش رنگ جڑی بوٹی قدیم ترین نباتاتی صنف ہے، جسے دوبارہ زندگی بخشی گئی ہے۔ اس تحقیقی ٹیم کی نگرانی سویتلانا یاشینا اور ڈیوڈ گلیچینسکی نامی ماہرین نے کی اور یہ تحقیق روس کی اکیڈمی آف سائنس کے تحت عمل میں لائی گئی۔ روسی ماہرین کی یہ کاوش قدیم نباتاتی اجناس سے متعلق تحقیق میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ اس ریسرچ کو بنیاد بناکر بہت سی دیگر قدیم نباتاتی اقسام کو بھی دوبارہ حیات بخشی جا سکتی ہے۔
اس پیشرفت سے سائبیریا کے برفیلے میدانوں تلے پائی جانے والی مٹی کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ محققین پرامید ہیں کہ اب زمین پر قبل از تاریخ کے جینیاتی پول کی تلاش میں معاونت مل سکے گی۔ سائبیریا میں دریافت شدہ اور پھر دوبارہ حیات پانے والی جڑی بوٹی سے قبل اس طرز کی قدیم طرین نباتاتی حیات ہونے کا اعزاز کھجور کے ایک بیج کو حاصل تھا۔ یہ بیج اسرائیل میں بحیرہء مردار کے قریب دریافت ہوا تھا اور وہ دو ہزار سال پرانا بتایا گیا تھا۔ روسی محققین کے مطابق ان کے دریافت کردہ بیج میں تابکار کاربن سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ وہ 31 ہزار 800 سال پرانا ہے۔
سائیبیریا کا بیشتر حصہ غیر آباد ہے اور سال کے بیشتر دنوں میں یہ برف سے ڈھکا رہتا ہے
روسی محققین کے کام کی سائنسی جزئیات پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نامی جریدے میں شائع کی گئی ہیں۔ زمین کی تہہ کے نیچے یہ بیج جس مقام سے ملے ہیں وہاں سے Pleistocene Age کے نباتات کی کئی دیگر اقسام بھی ملی ہیں۔ روسی محققین کا کہنا ہے کہ سائبیریا کے برف پوش میدانوں نے ان اجناس کو محفوظ تر رکھنے میں ایک دیو قامت فریزر کا کردار ادا کیا اور انہیں خراب نہیں ہونے دیا۔ اصولی طور پر سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ کچھ پودوں میں صدیوں تک اپنی خاصیت برقرار رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے مگر اب سے پہلے اتنی قدیم نباتاتی اقسام دریافت نہیں ہوئی تھیں جو اس نظریے کو تقویت دے سکتیں۔
روسی محققین سویتلانا یاشینا اور ڈیوڈ گلیچینسکی کے کام کو اس لیے بھی زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کہ انہوں نے نہ صرف ایک قدیم نباتاتی جنس کی دریافت کو ممکن بنایا بلکہ دیگر سائنسی تجربات کے برعکس اس کی ری جنریشن یعنی حیات نو کو بھی ممکن بنایا۔
رپورٹ: شادی خان سیف
ادارت: مقبول ملک