
یونانی وزیراعظم لوکاس پاپادیموس نے پارلیمان کے ممبران پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کو اقتصادی و سماجی تباہی سے بچانے کے لیے غیر مقبول بچتی اصلاحاتی بل کو منظور کر لیں۔ اس بل پر آج پارلیمان میں ووٹنگ کی جائے گی۔
یونان کی خستہ حال معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے۔ اسے یہ مالی مدد حاصل کرنے کے لیے سخت بچتی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ یوروپین سینٹرل بینک، عالمی مالیاتی فنڈ اور یورپی یونین نے ایتھنز حکومت کے لیے ایک بیل آؤٹ پیکج تیار کیا ہے تاہم اس کی ادائیگی سے قبل یونانی حکومت کو اضافی بچتی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
یونان کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم لوکاس پاپادیموس نے ہفتے کی شب اپنے ایک نشریاتی خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی مالی امداد حاصل کرنے کے لیے یونان کی پارلیمان کو اضافی بچتی اقدامات کو منظور کرنا ہو گا۔
یونان کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم لوکاس پاپادیموس
ان بچتی اقدامات کے تحت یونان حکومت تین اعشاریہ تین بلین یورو کی بچت ممکن بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس بچتی منصوبے کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پینشن اور ملازمتوں میں کٹوتیاں شامل ہیں۔ اگر یونان کی پارلیمان آج اتوار کے دن اس بچتی منصوبے کی منظوری دے دیتی ہے تو ایتھنز حکومت کے لیے 130 بلین یورو کی مالی امداد کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
لوکاس پاپادیموس نے کہا ہے کہ اس وقت پارلیمان پر تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بل کو منظور کر لے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری صورت میں ملک کی اقتصادیات تباہ ہو کر رہ جائے گی۔
ایتھنز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ہفتے کے دن بھی یونانی ممبر پارلیمان اس بچتی منصوبے پر مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے رہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اتحادی حکومت میں اس بل پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یونان کی کابینہ نے اس بل کی منظوری جمعے کو دی تھی تاہم اس دوران بھی کابینہ میں چھ وزراء نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔
آج بھی یونان میں مظاہرے متوقع ہیں
دوسری طرف یونانی عوام بھی شہری مراعات میں کمی کے اس منصوبے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ یونان میں مزدور یونینوں نے ہڑتالوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جبکہ آج اتوار کے دن بھی ایتھنز میں واقع پارلیمان کی عمارت کے باہر ایک بڑے مظاہرے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یونان کی پارلیمان میں آج عالمی وقت کے مطابق دن بارہ بجے اس بل پر بحث شروع کی جائے گی جبکہ شام تک اس پر ووٹنگ متوقع ہے۔ یونانی پارلیمان سے منظوری کے بعد اس بل کو یورو زون گروپ کے وزرائے خزانہ کی طرف سے بھی حتمی منظوری ملنا ضروری ہو گی اور تب ہی یہ مالی امداد یونانی حکومت کو موصول ہو سکے گی۔
رپورٹ: عاطف بلوچ
ادارت: عاطف توقیر