1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
امریکی صدر باراک اوباما

حالات حاضرہ

اوباما کی بطور کمانڈر ان چیف مقبولیت میں اضافہ

مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملوں اور افغانستان سے فوجی انخلاء کے طے شدہ فیصلے کی بدولت امریکی ووٹروں میں صدر باراک اوباما کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات بدھ کے روز سامنے آنے والے رائے عامہ کے جائزے سے معلوم ہوئی۔

اس سروے کے نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گزشتہ برس القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی خفیہ آپریشن میں ہلاکت سے بھی امریکی عوام کی نظر میں صدر باراک اوباما کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کی طرف سے کرائے گئے اس سروے میں شامل 83 فیصد لوگوں نے باراک اوباما کی طرف سے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملوں کا حکم دینے کی حمایت کی۔ گوکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی طرف سے اس طرح کے حملوں کی مخالفت کی جاتی ہے۔

سروے میں شامل 78 فیصد لوگوں نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے صدر اوباما کے منصوبے کی حمایت کی ہے

سروے میں شامل 78 فیصد لوگوں نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے صدر اوباما کے منصوبے کی حمایت کی ہے

امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ ماہ یوٹیوب اور گوگل پلس پر اپنی بات چیت کے دوران پہلی مرتبہ اس بات کا برملا اعتراف کیا تھا کہ امریکا پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملے کر رہا ہے۔

سروے میں شامل 78 فیصد لوگوں نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے حوالے سے صدر اوباما کے منصوبے کی حمایت کی۔ حالانکہ ری پبلکن پارٹی کی طرف سے آئندہ انتخابات میں امیدواروں نے صدر اوباما کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے، ان میں مِٹ رومنی بھی شامل ہیں۔

امریکی ووٹروں سے کیے جانے والے اس سروے میں یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا وہ گوانتا نامو بے میں قائم جیل کو قائم رکھنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں؟ 70 فیصد رائے دہندگان کا جواب اس کے حق میں تھا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے 2009ء میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد گوانتاموبے کے حراستی مرکز کو بند کرنے کا عزم کیا تھا مگر کانگریس کی مخالفت اور اس مرکز میں موجود مشتبہ افراد کی دیگر مراکز تک منتقلی میں حائل مسائل کے باعث یہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا۔

سروے کے مطابق اوباما کو آئندہ انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے اپنے ممکنہ حریف مِٹ رومنی پر واضح برتری حاصل ہے

سروے کے مطابق اوباما کو آئندہ انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے اپنے ممکنہ حریف مِٹ رومنی پر واضح برتری حاصل ہے

اس سروے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ باراک اوباما کی بطور امریکی افواج کے کمانڈر انچیف مقبولیت میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے، بلکہ اس حوالے سے ری پبلکن پارٹی کی ملکی سکیورٹی کے حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی پر جو برتری مانی جاتی تھی وہ صورتحال بھی تبدیل ہوئی ہے۔

اس سروے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باراک اوباما کو آئندہ انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے اپنے ممکنہ حریف مِٹ رومنی پر واضح برتری حاصل ہے۔ ووٹروں سے کیے گئے اس سروے میں شامل 56 فیصد نے اوباما جبکہ 36 فیصد نے مِٹ رومنی کے حق میں ووٹ دیا۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

ویب لنکس