
جرمنی کی قائدِ حکومت انگیلا میرکل تین روزہ دورے پر چین میں ہیں۔ آج جمعے کے روز انہوں نے چینی صدر ُہوجن تاؤ سے ملاقات کی ہے۔ گزشتہ روز میرکل نے چینی وزیراعظم سے میٹنگ کی تھی۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق آج جمعے کے روز چینی دارالحکومت میں اپنے قیام کے دوسرے دن جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے چین کے صدر ہُو جِن تاؤ سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں لیڈروں نے چین اور جرمنی کے باہمی تعلقات کے علاوہ عالمی اقتصادیات کو بھی اپنی گفتگو کا حصہ بنایا۔ اس کے علاوہ اہم بین الاقوامی امور پر بھی دونوں لیڈروں نے تبادلہ خیال کیا۔ ان امور میں شام کی اندرونی صورت حال اور ایران کا متنازعہ جوہری پروگرام یقینی طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔
انگیلا میرکل اور وین جیا باؤ
جمعرات کے روز چینی وزیراعظم وین جیا باؤ سے ملاقات میں جرمن چانسلر کو اس دورے میں خاصی تقویت حاصل ہوئی تھی جب چینی لیڈر نے یورو زون کرنسی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ چین پہنچنے کے بعد دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ ایک تقریب میں جرمن چانسلر نے کہا تھا کہ یورو کرنسی نے یورپ کو مظبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دونوں لیڈر بیجنگ میں ایک مشترکہ نیوز بریفنگ میں بھی شریک ہوئے۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ ملاقات کے بعد چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ان کا
بیجنگ میں جرمن چانسلر ایک تقریب میں
ملک یورو زون کے میں پائے جانے والے قرضوں کے بحران کے حل کے لیے زیادہ شراکتی عمل پر غور کر رہا ہے۔ چین اس مناسبت سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ذریعے یورپی مالیاتی استحکام کے مستقل فنڈ میں سرمایہ کاری کی خواہش رکھتا ہے۔ وین جیاباؤ کے مطابق چین یورو زون کو درپیش قرضوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کو فوقیت دیے ہوئے ہے۔ میرکل نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں یورو کرنسی کے استحکام کو یورپی اقوام کی عمومی ذمہ داری قرار دیا۔
میرکل آج چین کےجنوبی شہر گوانگ ژو Guangzhou جانے کا بھی ارادہ رکھتی ہیں جہاں وہ جرمن تاجر برادری کے علاوہ وہاں کے حکومت کے مقرر کیتھولک بشپ سے بھی ملاقات کریں گی۔ وہ گوانگ ژو میں ہونے والی بزنس سمٹ میں بھی شریک ہوں گی۔ جرمن چانسلر کا موجودہ دورہٴ چین کا ہفتے کے روز ختم ہو جائے گا۔
رپورٹ: عابد حسین
ادارت: افسر اعوان