1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

نوبل انعام یافتہ شاعرہ وِیسواوا شیمبورسکا کی رحلت

پولینڈ سے تعلق رکھنے والی معروف یورپی شاعرہ و نغمہ گر ویسواوا شیمبورسکا بدھ کی شام اٹھاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ خاتون ادیبہ کو سن 1996 میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

یورپی ملک پولینڈ سے تعلق رکھنے والی معروف ادب نواز شخصیت وِیسواوا شیمبورسکا (Wislawa Szymborska) جنوبی شہر کراکوف میں بدھ کی شام انتقال کر گئیں۔ ان کی رحلت نیند کے دوران ہوئی۔ وہ کافی عرصے سے پھیپھڑے کے سرطان میں بھی مبتلا تھیں۔ ان کی رحلت کی تصدیق ان کی پرسنل سیکریٹری مشیل روشنیک نے کی۔ پولستانی شاعرہ کی رحلت کے وقت ان کے رشتہ دار اور عزیز و اکارب بھی موجود تھے۔

وِیسواوا شیمبورسکا عصری یورپی ادب میں ایک توانا لب و لہجے کی شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔ وہ زندگی کی حقیقتوں کو انتہائی آسان انداز میں نظم کے قالب میں ڈھال دیا کرتی تھیں۔ ان کی نظموں کی سطریں ڈرامائی انداز میں زندگی کے جبر اور پریشانی کو بیان کرتی ہیں۔ شیمبورسکا کی شاعری میں جنگ سے پیدا ہونے والی پریشان کن صورت حال کے علاوہ دہشت گردی کے آسیب سے جنم لینے والے خوف وہراس کے انسانی زندگیوں پر اثرات کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ شاعری کے علاوہ وہ ایک باکمال مضمون نگار بھی تھیں۔ ان کی شاعری میوزک کے ساتھ آسانی کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ اسی باعث ان کو نوبل انعام کمیٹی نے شاعری کی موٹزارٹ قرار دیا تھا۔ آمریت کے دور میں ان کی شاعری پولستانی عوام کے لیے امید کا استعارہ تھا۔ ان کی شاعری میں زندگی کی ابدی حقیقتوں یعنی محبت، موت اور زنگی کے رنگ مختلف انداز میں قاری کو ملتے ہیں۔

نوبل انعام یافتہ شاعرہ وِیسواوا شیمبورسکا جرمنی میں گوئٹے پرائز وصول کرتے وقت

یہ امر اہم ہے کہ وہ ساٹھ سال تک شاعری کرتی رہی ہیں لیکن کل شائع ہونے والی نظموں کی تعداد چارسو کے قریب ہے۔ اتنی کم نظمیں شائع کروانے کے حوالے سے نوبل انعام یافتہ شاعرہ وِیسواوا شیمبورسکا کہا کرتی تھیں کہ ان کے کمرے میں لکھنے والے قلم و کاغذ کے علاوہ ایک کوڑے دان بھی ہے لہذا شام کو لکھی جانے والی نظم اگر صبح کے وقت پسند نہیں آتی تھیں تو وہ کوڑے کا حصہ بنا دیتی تھی۔ ان کی کل بیس کتابییں چھاپی گئیں ہیں۔ آخری کتاب سن 2008 میں شائع ہوئی۔

مرحومہ شاعرہ مغربی پولینڈ کے شہرپوزنین (Poznan) کے قریب کورنیک قصبے کے ایک گاؤں بنین (Bnin) میں دو جولائی سن 1923میں پیدا ہوئی تھیں۔ پولینڈ پر نازی دور میں وہ ریلوے اسٹیشن پر بھی مزدوری کرتی رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم چھپ چھپ کر مکمل کی تھی۔ وہ کراکوف کی مشہور Jagiellonian یونیورسٹی کے طالبہ ضرور رہیں لیکن کوئی ڈگری نہیں حاصل کر سکی تھیں۔ وہ بے تحاشا سگریٹ پیا کرتی تھیں۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ Radek Sikorski نے کہا ہے کہ وِس واوا شیمبورسکا کی رحلت پولستانی ادب و ثقافت کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ گزشتہ سال پولش صدر برونسواف کوموروفسکی (Bronislaw Komorowski) نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو اپنے ملک کا سب سے بڑا سویلن اعزاز آرڈر آف دی وائٹ ایگل دیا تھا۔ انہیں جرمنی کے دو معتبر انعامات گوئتھے پرائز اور ہیرڈر پرائز سے بھی نوازا گیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف