
عالمی جہاز رانی پر تنقيد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ بحری جہاز ايندھن کے طور پر جو بھاری تيل استعمال کرتے ہيں وہ بہت زہريلا ہوتا ہے۔ دراصل يہ تيل آئل ريفائنری ميں فضلے کے طور پر بچ جاتا ہے ۔
بحری جہاز ٹنوں کے حساب سے دھواں اور مضر ذرات کسی فلٹر ميں صاف کيے بغيراپنی قوی ہيکل چمنيوں سے فضا ميں خارج کرتے ہيں۔ اس ليے تحفظ ماحول کے کارکن، ماہرين صحت اور سياستدان اس کی روک تھام کا مطالبہ کر رہے ہيں۔
گذشتہ برسوں کے دوران موٹر گاڑيوں اور ان ميں استعمال ہونے والے ايندھن کے سلسلے ميں بہت سی تبديلياں آئی ہيں۔ ڈيزل گاڑيوں ميں ايسے فلٹر نصب کرديے گئے ہيں جو اس ايندھن کے مضر ذرات کو روک ليتے ہيں۔ پٹرول سے سيسے کو نکال ديا جاتا ہے اور ڈيزل ميں موجود مضر گندھک کی مقدار بھی گھٹا دی گئی ہے۔ جرمنی کے پٹرول پمپوں ميں فراہم کيے جانے والے ڈيزل ميں گندھک کی مقدار اب ايک فيصد کے بھی ہزارويں حصے سے زيادہ نہيں ہونا چاہيے۔
بحری جہازوں کا بھاری تيل، دمے کا خطرہ
ليکن بحری جہاز رانی ميں صورتحال اتنی اچھی نہيں ہے۔ ديو ہيکل بحری جہاز اب بھی گہرے سمندروں ميں سفر کے دوران بہت بڑی مقدار ميں مضر مادے خارج کرتے ہيں جو انسانوں، حيوانوں اور نباتات سب ہی کے ليے خطرناک ہوتے ہيں۔ اُن ميں جو بھاری تيل استعمال کيا جاتا ہے وہ معدنی تيل کی ريفائنريوں کا انتہائی زہريلا فضلہ ہوتا ہے۔ اس ميں گندھک کا تناسب ايک عام ٹرک ميں استعمال ہونے والے ڈيزل سے 3500 گنا زيادہ ہوتا ہے۔ بھاری تيل بہت گاڑھا اور چپکدار ہوتا ہے اور اُسے فلٹر يا صاف کيے بغير ہی بحری جہازوں ميں بطور ايندھن جلايا جاتا ہے۔
جرمنی کی قدرتی ماحول کے تحفظ کی ايسوسی ايشن ’نابو‘ کے ڈيٹمر اؤلنگر اس تيل کے جلنے سے خارج ہونے والے دھويں اور ذرات کو بہت بڑا مسئلہ سمجھتے ہيں: ’’عالمی ادارہء صحت کے بھی بہت سے جائزوں کے مطابق خاص طور پر دھويں کے يہ ذرات صحت کے ليے انتہائی مضر ہوتے ہيں۔ وہ کينسر، قلب اور دوران خون کے امراض کے علاوہ سانس اور دمے کے امراض بھی پيدا کر سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ بحری جہاز سلفر ڈائی آکسائڈ اور نائٹروجن بھی خرج کرتے ہيں جن سے زمين ميں تيزابيت پيدا ہونے کے علاوہ زمين کے گرد حفاظتی اوزون تہہ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔‘‘
’نابو‘ کے ڈيٹمر اؤليگر
عالمی ادارہء صحت WHO کے مطابق دھويں کے باريک مضر ذرات کے نتيجے ميں ہر يورپی کے عرصہء حيات ميں اوسطاً نو ماہ کی کمی ہو جاتی ہے۔ يورپی يونين کے کميشن کی چھان بين کے مطابق ساحلی علاقوں ميں پائے جانے والے دھويں کے باريک مضر ذرات ميں سے 20 تا 30 فيصد بحری جہازوں کی وجہ سے پيدا ہوتے ہيں۔ ہوائيں دھويں کے يہ ذرات اڑا کر قطب جنوبی تک لے جاتی ہيں، کيونکہ يہ سياہ ذرات برف کی سطح پر جم جاتے ہيں اور شمسی شعاعوں کو بہتر طور پر جذب کر ليتے ہيں اس ليے برف گرم ہو جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ خاص طور پر گرين لينڈ پر گليشئير پگھلنے کے عمل ميں اس گندگی کی وجہ سے نماياں طور پر تيزی پيدا ہوئی ہے۔
گندھک اور دھويں کے ان ذرات کی مقدار کم کرنے کے طريقے ايجاد کيے جا چکے ہيں۔ موٹر گاڑيوں اور بجلی گھروں ميں اس کے ليے فلٹر لگائے جاتے ہيں اور ايسے ايندھن استمال کيے جا رہے ہيں جو زيادہ مضر نہيں ہوتے۔ بحری جہازوں کے سلسلے ميں بھی ايسا ممکن ہو سکتا ہے۔ اؤلنگر نے کہا کہ سب سے بہتر يہ ہے کہ بھاری تيل کا استعمال ترک کر ديا جائے۔ جہاز راں کمپنياں يہ فوراً کر سکتی ہيں۔ سمندری تحفظ کی امريکی تنظيموں کی ريسرچ کے مطابق کسی دوسرے ايندھن کے استعمال سے سلفر ڈائی آکسائڈ کے اخراج ميں 80 فيصد اور دھويں کے ذرات ميں 40 فیصد کمی کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ: گيرو روئٹر / شہاب احمد صديقی
ادارت: شامل شمس