1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

فلوريڈا: جنگلی حيات کی تعداد ميں خاطر خواہ کمی، معمہ کيا؟

امريکی رياست فلوريڈا کے جنگلات ميں اژدہے مختلف اقسام کے جانورں کو اپنی خوراک بنا رہے ہيں جس کے سبب ان جانوروں کی تعداد ميں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔

جنوبی فلوريڈا ميں واقع Everglades National Park ميں سن 1999 تک خرگوشوں، ريکونز، باب کيٹ نامی شمالی امريکہ کے بن بلاؤ اور لومڑيوں کی ايک بڑی تعداد پائی جاتی تھی۔ ليکن اب ان جانوروں کی تعداد ميں ميں خاطر خواہ کمی ريکارڈ کی گئی ہے جس کے باعث مستقبل ميں اس علاقے کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہيں۔ اس بات کا انکشاف امريکہ ميں نيشنل اکيڈمی آف سائنس کی شائع کردہ ايک تحقيق ميں کيا گيا ہے۔ ان جانوروں کی شرح ميں کمی کی وجہ يہاں موجود جنوبی ايشيا سے تعلق رکھنے والے اژدہے ہيں جو کہ فلوريڈا ميں مقامی جنگلی حيات کو تيزی سے کھا رہے ہيں۔

تحقيق کے مطابق، سال 2003 سے 2011 تک ريکونز کی تعداد ميں 99.3 فيصد کمی، اپوسم نامی چوہے نما جانور کی تعداد ميں 98.9 فيصد کمی، جبکہ سفيد دم والے ہرنوں کی تعداد ميں 94.1 فيصد اور باب کيٹ کی تعداد ميں 87.5 فيصد کمی ديکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خرگوش اور لومڑياں مکمل طور پر غائب ہو گئی ہيں۔

گزرتے وقت کے ساتھ سانپوں نے اپنی نسل بڑھائی

گزرتے وقت کے ساتھ سانپوں نے اپنی نسل بڑھائی

فلوريڈا کے جنگلات ميں ان جانوروں کی تعداد ميں کمی کی وجہ اژدہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے جڑی ہے جو کہ ان جانوروں کو خوراک بنا رہے ہيں۔ خرگوش، ريکون، ہرن اور اپوسم وہ جانور ہيں جو کہ اژدہے کی خوراک کا حصہ ہيں۔ جبکہ لومڑيوں اور باب کيٹ کے حوالے سے خيال کيا جا رہا ہے کہ يا تو وہ بھی اژدہے کا شکار ہوئے ہيں يا پھر يہ جانور خواک کی کمی کے باعث بھوک سے مرے ہيں۔

امريکہ ميں اسی ماہ اژدہوں کی درآمد پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ ليکن ماہرين کا خیال ہے کہ يہ سانپ پہلے ہی ماحول کو بے انتہا نقصان پہنچا چکے ہيں۔ يہ بات مکمل طور پر واضح نہيں ہے کہ جنوب ايشيائی ممالک ميں پائے جانے والے يہ سانپ کس طرح فلوريڈا ميں واقع ايورگليڈ نيشنل پارک ميں آئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان سانپوں کو مقامی لوگ پالتے رہے ہيں، اور جب يہ اتنے بڑے ہو جاتے ہيں کہ ان کی مزيد نشونما ايک مسئلہ بن جائے تو لوگ انہيں گھروں سے باہر چھوڑ ديتے ہيں۔

اندازے کے مطابق انہی سانپوں نے نيشنل پارک ميں رہنے کے ليے جگہ بنائی کيونکہ وہاں انہيں خوراک ميسر تھی۔ دوسری جانب لوگوں کی یہ بھی رائے ہے کہ 1992 ميں آنے والے Hurricane Andrew کے باعث جو تباہی پھيلی، اس ميں ان سانپوں کے بچے پالتو جانوروں کی دکانوں سے نکل کر قريبی سمندر کے کناروں اور ديگر علاقوں ميں بس گئے اور گزرتے وقت کے ساتھ انہوں نے تيزی سے اپنی نسل بڑھائی۔

امريکہ ميں اژدہوں کی درآمد پر پابندی عائد کی جا چکی ہے

امريکہ ميں اژدہوں کی درآمد پر پابندی عائد کی جا چکی ہے

تحقيقات کے مطابق اس عمل سے ماحولياتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ نتيجتاً آنے والے وقتوں ميں کيا اثرات مرتب ہوں گے، اس حوالے سے کچھ نہيں کہا جا سکتا۔ ماہرين اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہيں کہ اب يہ اژدہے مقامی جنگلات ميں ناپيدگی کے خطرے سے دوچار پرندوں اور ديگر جانوروں کو بھی لقمہ اجل بنا سکتے ہيں۔

نيشنل اکيڈمی آف سائنس کی رپورٹ ميں اس بات کا بھی انکشاف کيا گيا ہے کہ پائيتھنز کا نشانہ بنےے والے کچھ جانوروں کی تعداد ميں دوبارہ اضافہ ممکن ہے ليکن دودھ پلانے والے جانوروں کے بارے ميں يہ بات حتمی طور پر نہيں کہی جاسکتی۔ دنيا بھر ميں جارحانہ جانوروں کی مختلف اقسام اس وقت ماحولياتی توازن کے ليے سب سے بڑا خطرہ ہيں۔ صرف امريکہ ہی ميں ايسے جارحانہ جانوروں سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے ليے سالانہ 120 بلين ڈالر خرچ کيے جاتے ہيں۔

رپورٹ: عاصم سليم

ادارت: شامل شمس

dw.de

ویب لنکس