
فرانسیسی بریسٹ امپلانٹ کمپنی PIP کے سابق سربراہ ژاں کلود ماس کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ غیر معیاری بریسٹ امپلانٹس اسکینڈل میں ملوث ماس کو ’نادانستہ طور پر نقصان پہنچانے‘ کے الزام میں جمعرات کی صبح گرفتار کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ژاں کلود ماس کے وکیل Yves Haddad کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کے مؤکل کو ایک لاکھ یورو کی ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ ماس بیرون ملک نہیں جا سکتے اور ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی سابق کمپنی پولی پروتھیس امپلانٹ PIP کے سابق ایگزیکٹیو اہلکاروں سے بھی نہیں مل سکتے۔
Haddad نے بتایا ہے کہ ماس پر Manslaughter کے سنگین الزامات کے تحت تفتیش نہیں کی جائے بلکہ اب انہیں Involuntary Injury کے الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔ ماس کے خلاف مقدمے کا آغاز اکتوبر میں متوقع ہے۔ اس سے قبل ان پر عائد الزامات کے حوالے سے حقائق اکٹھے کیے جائیں گے۔
بہتر سالہ فرانسیسی شہری ژان کلود ماس نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی کمپنی نے سستا اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا سیلیکون بریسٹ امپلانٹس کی تیاری کے لیے استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس طرح ماس نے تیرہ برس تک یورپی سیفٹی اسٹینڈرڈز کی خلاف ورزی کی۔ تاہم ماس کا کہنا ہے کہ اگرچہ PIP کے تیار کردہ بریسٹ امپلانٹس میں سستا سیلیکون استعمال کیا گیا لیکن وہ صحت کے لیے خطرناک نہیں ہے۔
PIP نے نے 65 ممالک میں کم ازکم چار لاکھ بریسٹ امپلانٹس فروخت کیے
اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد فرانسیسی طبی حکام نے 2010ء میں اس کمپنی کو بند کروا دیا تھا۔ لیکن گزشتہ دہائی کے دوران اس کمپنی نے 65 ممالک میں کم ازکم چار لاکھ بریسٹ امپلانٹس فروخت کیے۔ اگرچہ زیادہ تر یہ امپلانٹس لاطینی امریکی ممالک میں فروخت ہوئے تاہم یورپی ممالک کی خواتین نے بھی جسمانی حسن میں اضافہ کرنے کے لیے یہ امپلانٹس لگوائے۔
طبی ماہرین کے بقول چونکہ ان امپلانٹس میں غیر معیاری سیلیکون استعمال کیا گیا ہے، اس لیے دیگر امپلانٹس کے مقابلے میں اس کے جسم کے اندر پھٹ جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ماہرین کے بقول ان امپلانٹس کے پھٹنے کے نتیجے میں جسم میں زہر بھی پھیل سکتا ہے۔ انہی خدشات کے تحت جرمنی، فرانس، وینزویلا اور چیک جمہوریہ کے طبی حکام نےخواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان امپلانٹس کو نکلوا لیں۔
رپورٹ: عاطف بلوچ
ادارت: شامل شمس