
طبی محققین کا خیال ہے کہ ایک وقت میں ایک کام کرنے سے انسانی ذہن کی صلاحیتیں قائم رہتی ہیں اور وہ دماغی طور پر بلا وجہ تھکتا نہیں۔ ذہن کو زیادہ کاموں میں الجھانے سے سوچ بچار اور توجہ مرکوز کرنے کی قوت متاثر ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں کسی بھی دفتر میں معقول منصب پر کام کرنے والے فرد کو ایک ساتھ کئی معاملات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی ای میلز کے علاوہ معمول کی دفتری خط و کتابت کے ساتھ ساتھ افسران بالا کے ٹیلی فون اور سوالات کے جوابات بھی دینے بھی ہوتے ہیں۔ اس دوران اس کا دماغ کئی دیگر معاملات میں بھی الجھا رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آج کل ایک ساتھ بے شمار معاملات پر توجہ صرف کرنا کسی بھی دفتر کا معمول ہے۔
ریسرچرز کا خیال ہے کہ کثیر المعاملاتی صورت حال انسانی ذہن کے اندر کچھ ایسی سوچوں کو بھی ابھارتی ہیں، جن سے کچھ دیر کے لیے دفتری مسائل میں الجھا ہوا فرد اپنی توجہ کھو بیٹھتا ہے اور یہ بسا اوقات درد سری کا باعث بنتا ہے۔ نفسیاتی اور ذہنی امراض کے محققین کا خیال ہے کہ موجودہ دور کا دفتری ماحول ایسا ہے کہ فضا میں پھینکی گئی کئی گیندوں کو ایک شخص نے کیچ کرنا ہے اور ایسے میں کچھ کا گر جانا یقینی ہے۔
دفاتر میں ملازمین کو کئی امور ایک ساتھ نبھانے ہوتے ہیں
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں حادثاتی انشورنس کے ادارے میں کام کرنے والے صحت وسلامتی کے ماہر پروفیسر ڈِرک وِنڈے مُوتھ (Dirk Windemuth) دفتروں کے کثیر المعاملاتی ماحول کو تحسینی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ ان کے نزدیک کسی بھی دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی صلاحیتیں ایک ساتھ کئی معاملات کا سامنا کرنے سے متاثر ہوتی ہیں۔ پروفیسر وِنڈے مُوتھ کا کہنا ہے کہ وہ ملازمین جو ایک ساتھ بہت سارے امور کو طے کرنے کی سوچ رکھتے ہیں وہ درست نہیں اور یہ ایک بنیادی غلطی قرار دی جا سکتی ہے۔
پروفیسر ڈِرک وِنڈے مُوتھ کا خیال ہے کہ ایک وقت میں ایک کام کو مکمل کرنا احسن ہوتا ہے اور زیادہ اُمور کو نبھانے کی کوشش کے دوران عدم توجہی کے علاوہ ذہنی صلاحیتوں کو مرتکز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ کچھ اور ریسرچرز کا بھی خیال ہے کہ دفتری ماحول میں ’مداری‘ کا تماشہ‘ بسا اوقات متاثر کن نہیں ہوتا اور ویسے بھی فطرت نے انسانی دماغ کی تخلیق ایک وقت میں ایک کام مکمل کرنے کے انداز میں کی ہے۔ جرمن ریسرچر پروفیسر ڈِرک وِنڈے مُوتھ نے بھی دفتری معاملات میں ملازمین کی کسی مسئلے میں پیشرفت اور کسی میں سستی یا تاخیر کو توانائی اور وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔
ایک سے زیادہ امور پر توجہ باعث پریشانی ہو سکتی ہے
پروفیسر ڈِرک وِنڈے مُوتھ کا کہنا ہے کہ دفتری فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک وقت میں ایک سے زائد امور پر توجہ مرکوز کرنے سے ملازمین کی مجموعی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان میں توجہ مرکوز نہ کر سکنے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جرمن سماجی ریسرچر کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی کام کی ادائیگی کے دوران ٹیلی فون کو ریسیو کرنے سے بھی پہلے سے جاری عمل یقینی طور پر متاثر ہوتا ہے اور بعض اوقات ٹیلی فون سننے کے دوران توجہ کے ضائع ہونے سے پہلے سے جاری کام مکمل تو ہوجاتا ہے لیکن امکاناً وہ اس درجہ شاندار نہیں ہوتا جتنا اندازہ لگایا گیا ہوتا ہے۔
انسانی ذہن ایک وقت پر ایک کام بہتر طور پر کر سکتا ہے
جرمن شہر لائپزِش کی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی ریسرچرآنیا بائیٹگے (Anja Baethge)کا بھی خیال پروفیسر ڈِرک وِنڈے مُوتھ جیسا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دوران کام ای میلز کا لینڈ کرنا سوچ کو متاثر کرتا ہے اور پہلے سے جاری امور میں تاخیر کا سبب بنتا ہے۔برلن شہر کے پروفیسر ڈِرک وِنڈے مُوتھ کے نزدیک سماجی رابطے کی ویب سائٹس بھی ملازمین پر پریشر بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں کیونکہ اب دفاتر کے پروفائل صفحات ان پر دستیاب ہیں اور ملازمین کی سرگرمیوں پر خاص وعام نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ریسرچر کے خیال میں اس وقت ترسیلِ معلومات کا عمل کئی واسطوں پر جاری ہے اور یہ بھی کسی ملازم کی فکر اور سوچ کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔ مسینجرز، فیس بک اور ایسی دوسری ویب سائٹس میں ملازمین کی شمولیت بھی ان کی فوکس اور توجہ میں کمی کا سبب بن رہی ہیں۔
رپورٹ: عابد حسین
ادارت: شادی خان سیف