1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

  • بدلتا ہوا میانمار

    یکم اپریل کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آنگ سان سوچی نے چھ فروری کو اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ اس موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    بارہ نومبر 2010ء کو سوچی کی نظر بندی ختم ہوئی۔ میانمار میں جمہوری تبدیلی کے لیے اس دن کو ایک آغاز کا نام دیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر سوچی دو دہائیوں تک نظر بند رہیں۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    فروری 2011ء میں میانمار کی پارلیمان نے سابق فوجی حکمران تھین سین کو ملک کا صدر منتخب کیا۔ انہوں نے ملک میں سیاسی اصلاحات کا سلسلہ شروع کے مغربی دنیا کو حیران کر دیا۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    گزشتہ برس اگست میں سوچی پہلی مرتبہ صدر تھین سین سے ملیں۔ کچھ ماہ قبل یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ناقدین کے بقول تھین سین سوچی کی قربت حاصل کر کے مغربی ممالک کی ستائش حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    گزشتہ برس ستمبر میں میانمار حکومت نے چینی اشتراک سے تعمیر کیے جا رہے ایک متنازعہ ڈیم کا منصوبہ ترک کر دیا۔ تھین سین حکومت کا یہ پہلا قدم تھا، جس سے معلوم ہوا کے وہ عوام کی امنگوں کا احترام کرنا چاہتے ہیں۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے یکم دسمبر 2011 کو میانمار کا دورہ کیا۔ یہ ان کا پہلا دورہ ء میانمار تھا۔ اس موقع پر انہوں نے میانمار میں جمہوری اصلاحات کی تعریف کی۔ انہوں نے البتہ اصرار کیا کہ اصلاحات کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    جنوری میں میانمارحکومت نے تین سو سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا۔ گزشتہ برس اکتوبر میں بھی دو سو سیاسی قیدیوں کو رہائی دے دی گئی تھی۔ ان میں معروف آرٹسسٹ زرغانر بھی شامل تھے۔ تاہم ابھی بھی متعدد سیاسی قیدی میانمار کی جیلوں میں قید ہیں۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    رواں برس کے آغاز پر میانمار کی حکومت نے ملک میں جاری مسلح تنازعہ کے حل کے لیے باغی گروہ کیرن سے ایک معاہد کر لیا۔ اس اقدام کو بھی مغربی ممالک کی طرف سے خوش آئند قرار دیا گیا۔

  • بدلتا ہوا میانمار

    بدلتے ہوئے میانمار میں ایک نئی امید پائی جا رہی ہے۔ سوچی کی قیادت میں اپوزیشن نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گی۔ ناقدین کے بقول یکم اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے معلوم ہو جائے گا کہ کیا میانمار واقعی طور پر جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے؟