1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

خبریں | 14.02.2012 | 16:02

نیٹو کو سپلائی کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت، پاکستان

خبر رساں ادارے ایے ایف پی کے مطابق منگل کے روز اسلام آباد حکومت نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر اعتراف کیا ہے کہ نیٹو کو افغانستان میں سپلائی کے لیےعارضی طور پر فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران وزارت دفاع کے عہدیدار کا وزیر دفاع احمد مختار کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ صرف کھانے پینے کی اشیاء سپلائی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بتایا تھا کہ سپلائی روٹ بند ہونے کے باوجود سپلائی کے لیے نیٹو کی فضائی پروازیں جاری ہیں۔

شام: حمص پر بمباری کا سلسلہ جاری

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے آج اسد حکومت کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ برلن میں عرب لیگ کے جنرل سیکریٹری نبیل العربی سے ملاقات سے پہلے انہوں نے کہا کہ شام میں قتل و غارت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ دوسری جانب شامی افواج کی جانب سے حمص شہر میں مخالفین پر بمباری کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے عہدیدار رامی عبدالرحمن  نے بتایا کہ بابا امر  اور ارد گرد کے علاقوں میں شیلنگ کا سلسہ صبح سویرے سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ دریں اثناء شامی صدر بشار الاسد نے شام کے لیے عرب لیگ کے امن منصوبے کو مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوی پلے نے شامی حکومت پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ پلے کے بقول صدر بشار الاسد کی حکومت سلامتی کونسل میں اس کے خلاف قرارداد کی ناکامی کو مخالفین کو کچلنے کے جواز کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

یورو زون بحران: یورپی یونین اور چین کے درمیان مذاکرات

 چین یورپی یونین کے بحران کو حل کرنے میں اپنا تعاون بڑھانے پر تیار ہے۔ یہ بات چینی وزیراعظم وین جیا باؤ نے یورپی یونین اور چین کے سربراہی اجلاس میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین ایک مضبوط اور مالی اعتبار سے مستحکم یورپ کا خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ چین کس طرح سے یورپی بحران کو حل کرنے میں مدد کرے گا۔ یورو زون کو درپیش اقتصادی بحران اور عالمی معیشت کو لاحق خطرات پر بات چیت کے لیے آج منگل کے روز یورپی یونین اور چین کے رہنماؤں کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں چینی صدر وین جیا باؤ یورپی کونسل کے صدر ہیرمن فان رومپوئے، یورپی کمیشن کے صدر ژوزے مانوئیل باروسو اور دیگر یورپی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔ باروسو نے چین روانگی سے قبل برسلز میں کہا تھا کہ یورپ اور چین کی مشکلات اور امتحانات باہم ہیں۔ دنیا کو مل جل کر ہی ان مسائل سے نمٹنا ہو گا۔

بنکاک: دھماکہ خیز مواد لے جانے والے ایک ایرانی باشندے نے اپنی ہی ٹانگوں کو اڑا لیا

تھائی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد لے جانے والے  ایک ایرانی باشندے نے اپنی ہی ٹانگوں کو اڑا لیا ہے۔ حکام کے مطابق بنکاک میں ہونے والے دیگر دو دھماکوں میں چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق بنکاک واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کو رد نہیں کیا جا سکتا تاہم تھائی حکام نے ایسے کسی بھی شک کا اظہار نہیں کیا ہے۔ دریں اثناء ایران نے بھارت میں اسرائیلی سفارت خانے کے عملے پر حملے میں ملوث ہونے کا اسرائیلی الزام مسترد کر دیا ہے۔ تہران حکام نے اسے یروشلم حکومت کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے نئی دہلی میں دھماکے  اور تبلیسی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ملازم کی کار سے برآمد ہونے والے بم کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ گزشتہ روز بھارت میں اسرائیلی سفارت کار کی گاڑی پر حملہ ہوا تھا، جس کا الزام اسرائیل نے ایران پر عائد کیا تھا۔

پشاور: گرفتار ہونے والا امریکی شہری رہا

پاکستانی شہر پشاور کے ہوائی اڈے پر گرفتار کیے جانے والے امریکی باشندےکو ابتدائی تحقیقات کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والا شخص پشاور میں امریکی سفارت خانے میں کام کرتا ہے، جس وجہ سے اسے رہا کر دیا گیا۔ ایئر پورٹ پر تلاشی کے دوران اس امریکی کے پاس سے 12 میگزین راؤنڈز اور ایک پستول برآمد ہوا تھا، جس پر اسےگرفتار کر لیا گیا۔ پشاور کے ایک سینئر پولیس افسر طاہر ایوب کے مطابق یہ مسافر اسلام آباد جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ امریکی سفارتخانے کے مطابق ان کے اہلکار کو سفارتی استثناء حاصل ہے اور وہ پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں۔

چھ یورپی ریاستوں کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی

امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے چھ یورپی ریاستوں کی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی ہے۔ ان میں اٹلی، پرتگال، اسپین، مالٹا ، سلوواکیہ اور سلووینہ شامل ہیں۔ موڈیز کے مطابق فرانس، برطانیہ  اور آسٹریا کی صورتحال بھی حوصلہ افزاء نہیں ہے اس وجہ سے ان ممالک کی  ٹرپل اے ریٹنگ میں   کمی کی جا سکتی ہے۔ موڈیز نے کہا کہ یورو زون کا بحران اور یورپ  کے غیر مستحکم مالی حالات اس کی وجہ ہیں۔ تاہم جرمنی کی کریڈٹ ریٹنگ کو اس تناظر میں ابھی تک کوئی خطرہ نہیں ہے۔

یورو زون یونان کے بغیر بھی چلتا رہے گا، لگسمبرگ

لگسمبرگ کے وزیر خزانہ لک فرائیڈین کا کہنا ہے کہ اگر یونان منظور کردہ بچتی اصلاحات پر عمل نہیں کر سکتا تو یورو زون گروپ یونان کے بغیر ہی چلتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کا ایک اہم اجلاس بدھ کو ہو رہا ہے، جس میں یونان کو ایک سو تیس بلین یورو کا بیل آؤٹ دینے یا نہ دینے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ یونانی پارلیمان کی جانب سے بچتی منصوبے کی منظوری کے بعد ملک میں زبردست احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے۔

جرمنی برازیل کی ترقی سے بہت متاثر ہے، گیڈو ویسٹر ویلے

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے لاطینی امریکی ممالک کے اپنے دورے کی پہلی منزل برازیل پہنچ گئے ہیں۔ دارالحکومت پہنچنے پر انہوں نے کہا کہ برازیل جنوبی امریکی ممالک کی مرکزی اقتصادی طاقت ہے۔ برازیل کے اپنے ہم منصب انٹونیو پیٹریوٹا سے ملاقات کے بعد ویسٹر ویلے کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت برازیل دنیا کی چھٹی بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے اور جرمنی اس ترقی سے بہت متاثر ہے۔ ان کے بقول دونوں ملکوں کے مابین  سیاسی اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ جرمنی اور برازیل نے یورپی یونین اور لاطینی امریکی ممالک کی تنظیم کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے کی بھی تائید کی۔ جرمن وزیر خارجہ اپنے آٹھ روزہ دورے کے دوران پیرو، پاناما اور میکسیکو بھی جائیں گے۔

برطانوی عدالت نے ابو قتادہ کو رہا کر دیا

 دہشت گرد گروہ القاعدہ کے برطانیہ میں قید شدت پسند رہنما ابو قتادہ کو رہا کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ابو قتادہ کو بغیر مقدمے کےحراست میں رکھنا غیر قانونی ہے۔ اردن سے تعلق رکھنے والے ابو قتادہ کو یورپ میں اسامہ بن لادن کا دایاں ہاتھ بھی کہا جاتا تھا۔ یورپی کورٹ آف ہیومن رائٹس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ حراست غیر قانونی ہے اور برطانیہ کو چاہیے کہ وہ ابو قتادہ کو اردن نہ بھیجے۔ سات یورپی ججوں کی رائے تھی کہ اردن میں قتادہ کے مقدمے کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہو سکیں گی اور وہاں اس پر تشدد بھی کیا جا سکتا ہے۔ ابو قتادہ القاعدہ سے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔

شمالی کوسووو میں سربیا سے مزید قریبی روابط رکھنے سے متعلق ریفرنڈم

شمالی کوسووو میں سربیا سے مزید قریبی روابط رکھنے سے متعلق مرحلہ وار ریفرنڈم شروع ہو گیا ہے۔  منگل اور بدھ  کو منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں اس خطے میں آباد 35 ہزار سربیئن باشندے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، تاکہ اس آبادی کو مکمل طور پر شمالی  کوسووو میں شامل ہونے سے روکا جاسکے۔ سربیا کی حکومت اپنے سابقہ صوبے کوسووو کی خود مختاری کو تسیلم نہیں کرتی۔ بلغراد حکومت نے شمالی کوسووو کے سربیئن باشندوں کے ریفرنڈم کو یورپی یونین کی جانب سے ممکنہ تنقید کی وجہ سے مسترد کر دیا ہے۔ بلغراد کو خدشہ ہے کہ اس طرح مارچ کے آغاز میں سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت کے  معاملے کو طول بھی دیا جاسکتا ہے۔

چین میں ایک اور بدھ بھکشو کی خود سوزی

جنوب مغربی چین میں ایک اور بدھ بھکشو نے خود سوزی کی کوشش کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بیجنگ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھکشو نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ یہ واقعہ سیچوان صوبے کے ’آبا‘ شہر میں ایک ایسے وقت میں پیش آیا، جب آج چینی نائب صدرژی جنِپنِگ اور امریکی صدر باراک اوباما واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ تبت میں 2008ء سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران چینی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تقریباً بیس تبتی باشندے آگ لگا کر خود کشی کر چکے ہیں۔

  • ہزاریہ اہداف

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    ہزاریہ اہداف

    ستمبر 2000 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں رکن ممالک نے دنیا سے غربت، بیماری اور عدم مساوات کے خاتمے کے لیے آٹھ اہداف مقرر کیے تھے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے میلینئم ڈکلیئریشن کو دنیا کے غریب عوام کی حالت بہتر کرنے کے لیے ایکشن پلان کا درجہ دیا جاتا ہے۔

  • غربت میں نصف کمی

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    غربت میں نصف کمی

    ہدف نمبر1: دنیا میں 1990ء سے اب تک بھوک اور غربت میں 40 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے، مگر دوسری طرف بھوک کے شکار افراد کی تعداد 817 ملین سے بڑھ کر ایک ایک بلین سے زائد ہوچکی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران خوراک کی پیداوار ضرورت سے زائد رہی۔ زمبابوے جیسے ملک میں بھوک کے خلاف جنگ ناقابل فتح لگتی ہے۔

  • یونیورسل ایجوکیشن

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    یونیورسل ایجوکیشن

    ہدف نمبر 2: پرائمری تعلیم ہر ایک کے لیے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو کسی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ 1990ء کے مقابلے میں اب لڑکیوں کو تعلیم کے زیادہ مواقع میسر ہیں۔ لیکن بہت سے ملکوں میں تعلیم اب بھی بہت سے لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔ 25 برسوں کی جنگ سے تباہ حال افغانستان میں تعلیم کا انفراسٹرکچر نئے سرے سے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

  • صنفی مساوات

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    صنفی مساوات

    ہدف نمبر3: صنفی بنیادوں پر مساوات میں اضافہ اور عورتوں کی صورتحال میں بہتری۔ آج بھی دنیا کے بہت سے ملکوں میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم حقوق اور مواقع میسر ہیں۔ تصویر میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ایک خاتون کو سال 2009ء کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ کا اپنا بنیادی حق استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

  • بچوں کی اموات میں کمی

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    بچوں کی اموات میں کمی

    ہدف نمبر4: نوزائیدہ بچوں کی اموات میں دو تہائی کمی۔ دنیا بھر میں ہر چھ سیکنڈ بعد پانچ برس سے کم عمر کا ایک بچہ، بھوک، آلودہ پانی یا ایسی بیماری کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتا ہے جو قابل علاج ہیں۔ 1990ء کے مقابلے میں عالمی سطح پر کم عمر بچوں کی اموات میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ تصویر میں دکھائی گئی کانگو کی بچی ملیریا بخار میں مبتلا ہے جس پر اسے گھر سے باہر نکال دیا گیا۔

  • حاملہ ماؤں کی اموات میں کمی

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    حاملہ ماؤں کی اموات میں کمی

    ہدف نمبر 5: حاملہ ماؤں کی تعداد میں تین چوتھائی کمی۔ حمل اور بچے کی پیدائش نوجوان خواتین کی ہلاکت کی بڑی وجوہات ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال ساڑھے تین لاکھ سے زائد خواتین اس باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق افریقی ممالک سے ہے۔ تاہم 1990ء کے بعد سے حاملہ ماؤں کو ملنے والی طبی سہولتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

  • ایڈز اور ملیریا

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    ایڈز اور ملیریا

    ہدف نمبر6: ایچ آئی وی/ ایڈز، ملیریا اور تپ دق میں کمی۔ ایک طرف تو ایچ آئی وی یعنی ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ بظاہر رک گیا ہے تو دوسری جانب ایڈز سے متاثرہ افراد کی زندگی میں بہتری آئی ہے۔ ملیریا اور ایڈز کے خلاف چلائی جانے والی مہموں کی بدولت ان امراض میں کمی واقع ہوئی ہے۔

  • تحفظ ماحول

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    تحفظ ماحول

    ہدف نمبر7: تحفظ ماحول اور پائیدار ترقی۔ اقوام متحدہ کے تحفظ ماحول سے متعلق پروگرام کے مطابق ہمارا ماحول 1990ء کے مقابلے میں اب بدترین حالت میں ہے۔ ہر سال 5.2 ملین ہیکٹر رقبے پر لگے جنگلات غیر قانونی طور پر کاٹے اور جلائے جانے کے باعث ختم ہو رہے ہیں۔

  • عالمی شراکت داری

    ایک دنیا، آٹھ اہداف

    عالمی شراکت داری

    ہدف نمبر 8: ترقی کے لیے عالمی شراکت داری۔ ہزاریہ اہداف میں زیادہ تر ترقی یافتہ ملکوں سے متعلق ہیں جو ترقی یافتہ اقوام کی مدد سے حاصل کیےجانے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان ممالک نے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 0.7 فیصد حصہ دینے کا عہد کیا تھا۔ آج یہ ہدف 0.31 فیصد تک پہنچا ہے، جبکہ عالمی معاشی بحران کے سبب بہت سے ملکوں نے اپنا حصہ کم کر دیا ہے۔