1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمن صدر کا فلسطینی علاقوں کا دورہ

امریکی تربیت کاروں کی واپسی، پاکستان کی تردید

اسرائیل نے فلسطینیوں کی باقیات لوٹا دیں

جرمنی میں بالٹک ممالک کا سربراہی اجلاس

تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن

شام کی صورتحال اور یورو بحران، اوباما کی یورپی رہنماؤں سے بات چیت

بھارت بھر میں اپوزیشن کی کال پر ہڑتال

حالات حاضرہ

معاشرہ

  • افتتاحی میچ  وارسا اسٹیڈیم میں

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    افتتاحی میچ وارسا اسٹیڈیم میں

    پولینڈ کا وقار کہلانے والے اس اسٹیڈیم کا رقبہ دو لاکھ مربع میٹر سے بھی زیادہ ہے۔ مختلف برقی قمقموں کی مدد سے اس پر پولینڈ کے قومی پرچم کے رنگ بکھیرے گئے ہیں۔ اس میں 58 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کی تعمیر پر 350 ملین یورو کی لاگت آئی ہے۔ تاہم یورپی فٹ بال چیمپئن شپ کے بعد وارسا کی اس نئی پہچان کا کیا بنے گا، یہ ابھی تک کسی کو معلوم نہیں۔

  • تیزی سے ترقی کرتا ہوا دارالحکومت

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    تیزی سے ترقی کرتا ہوا دارالحکومت

    پولینڈ کی کمزور معیشت میں وارسا امید کی ایک کرن ہے۔ 3.5 ملین کی آبادی والے اس شہر میں بہت زیادہ تعمیرات ہوئی ہیں لیکن ابھی بھی سیاح پیلس اسکوائر کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔

  • گڈانسک اسٹیڈیم، سنہری کپ کی طرح

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    گڈانسک اسٹیڈیم، سنہری کپ کی طرح

    پولینڈ کے سونے کی طرح چمکتے دمکتے اس نئے اسٹیڈیم میں 42 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس اسٹیڈیم میں پہلا ہنگامہ خیز میچ یورپی فٹ بال چیمپئن شپ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے والے ملک اسپین اور سابق عالمی چیمپئن اٹلی کے مابین کھیلا جائے گا۔

  • تاریخی بندرگاہی شہر

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    تاریخی بندرگاہی شہر

    گڈانسک کی بندرگاہ کی پہچان صرف مشہور زمانہ ’کرین گیٹ‘ ہی نہیں ہے بلکہ یہ شہر مزدور تنظیموں کی جانب سے ماضی میں چلائی جانے والی تحریک سالیڈیریٹی کی وجہ سے بھی خاص شہرت رکھتا ہے۔ شہر کے قدیم حصے میں پیدل گھومنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔

  • یکسر تبدیل

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    یکسر تبدیل

    پولینڈ کے شہر پوزن میں 1986ء سے ایک اسٹیڈیم موجود ہے۔ 2010ء میں اس کی نئے سرے سے تزئین و آرائش کی گئی۔ 43 ہزار افراد کی گنجائش والے اس اسٹیڈیم میں ٹورنامنٹ کی ایک فیورٹ ٹیم اٹلی دو میچ کھیلے گی۔

  • ابھرتا ہوا پوزن

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    ابھرتا ہوا پوزن

    پوزن کے لیےکئی منصوبے بنائے گئے ہیں۔ پولینڈ کے مغرب میں واقع ساڑھے پانچ لاکھ کی آبادی والے اس شہر نے خود کو 2016ء کے لیے یورپی ثقافتی دارالحکومت قرار دیے جانے کی درخواست دے رکھی ہے۔ اس تناظر میں پوزن میں کھلیے جانے والے یوروکپ کے میچ بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • جدید ترین طرز تعمیر کا شاہکار

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    جدید ترین طرز تعمیر کا شاہکار

    وروتسلاو کے جدید ترین اسٹیڈیم میں 43 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یورپی چیمپئن شپ کے دوران یہ اسٹیڈیم مکمل طور پر چیک جمہوریہ کی ٹیم کے ہاتھوں میں ہو گا، جو اپنے تمام گروپ میچ یہیں کھیلے گی۔

  • وروتسلاو، نوجوانوں کا شہر

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    وروتسلاو، نوجوانوں کا شہر

    اپنی 13یونیورسٹیوں اور ایک لاکھ 35 ہزار طلباء کے ساتھ بریٹسلاؤ کا شمار تعلیمی حوالے سے پولینڈ کے مرکزی شہروں میں ہوتا ہے۔ 12 جزیروں پر مشتمل اس شہر میں نوجوانی کا الہڑ پن جھلکتا ہے۔

  • حال ہی میں مکمل ہونے والا اسٹیڈیم

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    حال ہی میں مکمل ہونے والا اسٹیڈیم

    تعمیراتی کاموں میں تاخیر اور سڑکوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے یوکرائن میں لیمبرگ یا لویو کا اسٹیڈیم آخری وقت پر مکمل ہو سکا۔ 35 ہزار شائقین دو مرتبہ یہاں جرمن ٹیم کو کھیلتے ہوئے دیکھ سکیں گے

  • متحد کرنے والا شہر

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    متحد کرنے والا شہر

    یوکرائن کا شہر لیمبرگ یا لویو یورپی چیمپئن شپ کے دوران اتحاد کی نشانی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ تاریخی حوالے سے اس شہر کا تعلق پولینڈ، یوکرائن اور آسٹریا سے رہا ہے۔ شہر کے مرکز کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دے رکھا ہے۔

  • ڈونیتسک کے امراء

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    ڈونیتسک کے امراء

    یوکرائن میں ہر شعبے میں امیر طبقے کا عمل دخل رہتا ہے۔ اس تصویر میں کان کنی کے شعبے کی معروف کاروباری شخصیت ریناٹ اخمیتوف کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈونیتسک کے شاختار کلب کو خریدا اور اس کے لیے 55 ہزار تماشائیوں کی گنجائش والا ایک اسٹیڈیم بھی تعمیرکروایا۔ اس کے علاوہ ڈونیٹسک کو یوروکپ کے اسٹیڈیم کے حوالے سے بھی تعمیراتی شعبے کے ایک امیر تاجر الیگزینڈر یاروسلاوسکی کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

  • شہر مزدوراں میں فٹ بال کا جوش

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    شہر مزدوراں میں فٹ بال کا جوش

    1.1 ملین کی آبادی والے شہر ڈونیتسک کی زیادہ تر آبادی فولاد تیار کرنے والی فیکٹریوں اور کوئلے کی کانوں میں کام کرتی ہے۔ مزدوروں کے اس شہر کے فٹ بال کلب کا شمار یوکرائن کے صف اول کے کلبوں میں ہوتا ہے۔

  • تاریخی اسٹیڈیم

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    تاریخی اسٹیڈیم

    کلب میٹالسٹ شارکوف کی وجہ سے یوکرائن کے شمال مشرق میں واقع یہ شہر یورپ بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ شارکوف کا 39 ہزار افراد کی گنجائش والا یہ اسٹیڈیم 1926ء میں تعمیر کیا گیا تھا جبکہ 2009ء میں اس کی ایک مرتبہ پھر مرمت کی گئی تھی۔

  • شارکوف ترقی کی راہ پر

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    شارکوف ترقی کی راہ پر

    شارکوف شہر میں اب بھی سابقہ سوویت یونین کی باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ شہر اپنے زرعی شعبے اور انجینئرنگ کی وجہ سے منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ آج کل یہاں تعلیم کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے اور شہر کی یونیورسٹیوں میں ایک لاکھ کے قریب طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

  • فائنل میچ

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    فائنل میچ

    یورپی چیمپئن شپ کا فائنل کییف کے اولمپک اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ بیضوی شکل والے اس اسٹیڈیم میں فٹ بال کے 70 ہزار پرستاروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ تاہم یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اس اسٹیڈیم کی مرمت پر 585 ملین یورو کس طرح خرچ ہوئے؟ اس کے برعکس میونخ کے فٹ بال ایرینا کی تعمیر پر 340 ملین یورو لاگت آئی تھی۔

  • دلکش کییف

    یورو کپ فٹ بال ٹورنامنٹ، اسٹیڈیمز کا تعارف

    دلکش کییف

    یوکرائن کا دارالحکومت کییف مختلف رنگوں کا شہر ہے۔ یہاں امارت اور غربت اور جدیدیت اور روایات ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ جدیدیت اور روایات کے سنگم کی ایک مثال صوفین کیتھیڈرل ہے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے


    مصنف: Joscha Weber /Adnan ishaq | ایڈیٹر: Maqbool Malik

سائنس اور ماحول

  • خصوصی روابط

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    خصوصی روابط

    ہولو کاسٹ کی وجہ سے جرمنی اور اسرائیل کے مابین تعلقات شروع ہی سے خصوصی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ اس مرتبہ بھی جرمن صدر کے دورہ اسرائیل سے پہلے میڈیا میں اسے خصوصی اہمیت دی گئی۔

  • لکسمبرگ معاہدہ

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    لکسمبرگ معاہدہ

    دس ستمبر 1952 کو لکسمبرگ شہر میں ان دونوں ملکوں کے مابین ’معاہدہ تلافی‘ طے پایا، جس پر جرمن چانسلر آڈےناؤر کے علاوہ اسرائیلی وزیر خارجہ Mosche Scharett نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت جرمن حکومت نے اسرائیل کو 3.45 بلین مارک ادا کیے تھے۔

  • باقاعدہ سفارتی تعلقات کا آغاز

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    باقاعدہ سفارتی تعلقات کا آغاز

    سن 1960 میں جرمن چانسلر آڈےناؤر اور اسرائیل کے بانی اور سابق وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریان نے دونوں ملکوں کے مابین سرد مہری ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس طرح 1965ء میں دونوں ملکوں کے مابین باقاعدہ سفارتی تعلقات کا آغاز ہوا۔

  • میونخ میں دہشت گردی

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    میونخ میں دہشت گردی

    سن 1972 میں جرمن شہر میونخ میں ہونے والے اولمپک کھیلوں کے دوران گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو یرغمالی بنا لیا گیا۔ اس کارروائی میں ملوث تین فلسطینیوں کو وفاقی حکومت نے اس وقت رہا کر دیا، جب فلسطینیوں ہی نے ایک جرمن طیارے کو اغوا کیا۔ اس فیصلے پر اسرائیلی عوام کا ردعمل شدید تھا۔

  • کسی جرمن چانسلر کا پہلا دورہء اسرائیل

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    کسی جرمن چانسلر کا پہلا دورہء اسرائیل

    دوسری عالمی جنگ کے اٹھائیس برس بعد جرمن چانسلر وِلی برانٹ نے سن 1973 میں پہلی مرتبہ اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس کے دو برس بعد اسرائیلی وزیر اعظم Izchak Rabin نے جرمنی کا دورہ کیا۔ وہ جرمنی کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی سربراہ حکومت تھے۔

  • دو طرفہ معاہدے

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    دو طرفہ معاہدے

    اسرائیل اور جرمنی کے مابین 1975 میں شراکت داری کا پہلا معاہدہ طے پایا۔ اب تک دونوں ملکوں کے مابین اس طرح کے سینکڑوں معاہدے طے پا چکے ہیں۔

  • باہمی تجارت

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    باہمی تجارت

    اقتصادی طور پر بھی یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ جرمنی اسرائیل کا دوسرا اہم ترین تجارتی ساتھی ہے۔ سن 2009 میں جرمنی کے لیے اسرائیلی برآمدات کی مالیت 1.44 بلین ڈالر رہی جبکہ جرمنی سے اسرائیل میں درآمدات کی مالیت 3.36 بلین ڈالر رہی تھی۔

  • جرمن ادیب پر پابندی

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    جرمن ادیب پر پابندی

    چوراسی سالہ نوبل انعام یافتہ جرمن ادیب گنٹر گراس نے رواں برس اپریل میں اپنی ایک نظم میں اسرائیل کو ’نازک عالمی امن کے لیے ایک خطرہ‘ قرار دیا تھا، جس پر ان کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

  • یوآخم گاؤک اسرائیل میں

    جرمن اسرائیلی تعلقات

    یوآخم گاؤک اسرائیل میں

    جرمن صدر یوآخم گاؤک اٹھائیس مئی 2012ء کو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے چار روزہ دورے پر اسرائیل پہنچے۔ ان چار دنوں میں انہیں خود مختار فلسطینی علاقوں کا دورہ بھی کرنا ہے۔


    مصنف: | ایڈیٹر: