1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

  • ’تمہیں جان لینی چاہیے‘

    بچے بطور ہتھیار

    ’تمہیں جان لینی چاہیے‘

    طالبان جنگجوؤں نے اس 12 سالہ بچے کے دل میں یہ بات بٹھا دی ہے۔ اس سے قبل کہ یہ خود کو بم سے اڑا دیتا، پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ ان نابالغ جنجگوؤں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوتا، یہ خود ہتھیاروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔

  • بچپن جیل میں

    بچے بطور ہتھیار

    بچپن جیل میں

    کابل کی جیل میں دس اور سولہ سال کے درمیان کی عمر کے ایسے بہت سے بچے قید ہیں جنہیں پولیس خود کش بمبار سمجھتی ہے۔

  • جنت کے بجائے جیل

    بچے بطور ہتھیار

    جنت کے بجائے جیل

    ایک نوجوان کے مطابق اسے یہ بتایا گیا تھا کہ خود کش حملے کے بدلے وہ جنت میں جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے بجائے اب وہ ہر لمحہ گارڈز کی کڑی نگرانی میں ہے۔

  • تنہا

    بچے بطور ہتھیار

    تنہا

    بہت سے بچے خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں، یہ لڑکا اپنے اہل خانہ کی کمی شدت سے محسوس کرتا ہے۔ اس بچے کا کہنا ہے، ’میں گھر جانا چاہتا ہوں‘۔

  • شام کا کھانا

    بچے بطور ہتھیار

    شام کا کھانا

    چند بچوں کو طالبان نے خرید رکھا تھا، ان کے والدین ان کا پیٹ پالنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ جیل میں انہیں کم از کم کھانے کو تو ملتا ہے۔

  • مستقبل کی تیاری

    بچے بطور ہتھیار

    مستقبل کی تیاری

    جیل کے اسکول میں اسیری کے دوران ان بچوں کو پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہےاور وہ دست کاری سیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح انہیں رہائی کے بعد زندگی میں نئے مواقع میسر آ سکیں گے۔

  • کھیل کا قدرتی شوق

    بچے بطور ہتھیار

    کھیل کا قدرتی شوق

    اپنے فارغ اوقات میں یہ نوجوان لڑکے کیرم بورڈ کھیلتے ہیں۔ کیرم بورڈ افغانستان میں بہت مقبول ہے۔ کھیل کے ان لمحات میں یہ محض بچے ہوتے ہیں۔

  • امید کی کرن

    بچے بطور ہتھیار

    امید کی کرن

    بہت سے بچے پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں۔ زیادہ تر اپنے لیے سکون اور روحانی طاقت کے حصول کی امید میں ایسا کرتے ہیں۔ کابل کی جیل میں قید بچوں کا کہنا ہے، ’اللہ کی مدد سے ہماری اسیری کے دن بہتر گزر جائیں گے‘۔

سائنس اور ماحول