1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سربیا میں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ، نیکولچ جیت گئے

ڈرون حملے: امریکا ’مستقل حل‘ میں مدد دے، زرداری

پاکستان: پیغمبرِ اسلام کے خاکوں پر ٹویٹر ویب سائٹ کی بندش اور بحالی

لاکربی حملے کی تفتیش جاری رہے گی، اسکاٹ لینڈ

افغان جنگ دو سال میں ختم کر دیں گے، نیٹو رہنماؤں کا اتفاق

حالات حاضرہ

معاشرہ

صحت

  • متحرک حروف

    گٹن برگ عجائب گھر

    متحرک حروف

    جرمن شہر مائنز میں قائم گٹن برگ میوزیم میں پرنٹنگ یا طباعت کے بارے میں ہونے والی نمائش کو اس حوالے سے دنیا کی اولین نمائش قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس نمائش کا عنوان ’موونگ ٹائپس‘ یا متحرک الفاظ ہے۔ جس عمارت میں یہ نمائش ہو رہی ہے اس کو متحرک الفاظ سے سجایا گیا ہے۔ نمائش کا دورہ کرنے والے لوگ ٹیکسٹ پیغام بھیج کر ان الفاظ کی شکل تبدیل کر سکتے ہیں۔

  • میڈیا آرٹ

    گٹن برگ عجائب گھر

    میڈیا آرٹ

    ’موونگ ٹائپس‘ میں الفاظ کے وجود میں آنے سے لے کر ان کے ڈیجیٹل شکل اختیار کرنے تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ شائقین گٹن برگ کے تیار کردہ پرنٹنگ نظام میں الفاظ کی ابتدائی شکل سے لے کر جدید اینیمیٹڈ لفظوں تک کے سفر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

  • 20 ویں صدی کا ٹائپ ڈیزائن اول

    گٹن برگ عجائب گھر

    20 ویں صدی کا ٹائپ ڈیزائن اول

    اس نمائش میں گزشتہ 111 برسوں کے دوران ٹائپ ڈیزائن میں آنے والی تبدیلیوں کو دکھایا گیا ہے، انہی میں جرمن طرز تحریر، جدید کمرشل آرٹ اور دیگر ڈیزائن شامل ہیں۔

  • 20 ویں صدی کا ٹائپ ڈیزائن دوم

    گٹن برگ عجائب گھر

    20 ویں صدی کا ٹائپ ڈیزائن دوم

    ٹائپ ڈیزائن کا انحصار محض ذاتی پسند نا پسند پر ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا سب سے پہلا کام معلومات کی ترسیل ہے۔ ’جرمن ٹائپ فیس‘ میں استعمال ہونے والی بعض لفظی اشکال بہت زیادہ زاویوں پر مشتمل ہیں اور وہ کسی طور پر بھی قدرتی اشکال نہیں ہیں۔ یہ ٹائپ فیس نازی دور میں جرمنی میں بہت زیادہ استعمال کیا گیا۔

  • یوہانس گینزفلائش گٹن برگ

    گٹن برگ عجائب گھر

    یوہانس گینزفلائش گٹن برگ

    موجد، ذہین تاجر اور قابل دستکار یوہانس گٹن برگ نے نے متحرک پرنٹنگ نظام ایجاد کر کے یورپ اور دنیا بھر میں گویا میڈیا انقلاب کی بنیاد رکھی۔ ان کی 500 ویں سالگرہ کے موقع پر مائنز نے ایک عجائب گھر اپنے اس معروف فرزند کے نام سے منسوب کیا۔ پرنٹنگ آرٹ کے حوالے سے یہ میوزیم منفرد اور قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔

  • فولادی پرنٹنگ پریس

    گٹن برگ عجائب گھر

    فولادی پرنٹنگ پریس

    19 ویں صدی میں تیز رفتار صنعتی ترقی اور مشینوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کا پرتو پرنٹنگ کی صنعت پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر میں دکھایا گیا کولمبیا پریس 1824ء میں تیار کیا گیا اور ہاتھ سے چلنے والے اس پریس کی بدولت کم محنت صرف کر کے بہت زیادہ کاپیاں تیار کرنا آسان ہو گیا۔

  • دھاتی حروف

    گٹن برگ عجائب گھر

    دھاتی حروف

    دھاتی حروف ڈھالنے والا یہ دستی مولڈ گٹن برگ کی ایجاد کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ نرم دھات سے ڈھالے گئے حروف کو دو حصوں پر مشتمل خالی مولڈ میں جوڑ کر حروف ترتیب دیے جا سکتے تھے۔

  • گٹن برگ کی ورکشاپ

    گٹن برگ عجائب گھر

    گٹن برگ کی ورکشاپ

    عجائب گھر کی ایک اہم کشش گٹن برگ کی ورکشاپ ہے، جسے نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس ورکشاپ میں پرنٹنگ کے مختلف مراحل کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔ تصویر میں دکھایا گیا پرنٹنگ پریس گٹن برگ کے پرنٹنگ پریس کی نقل ہے جو 1925ء میں تیار کی گئی۔ لوگ زیادہ تر اسی پریس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

  • ایشیا میں دھاتی حروف

    گٹن برگ عجائب گھر

    ایشیا میں دھاتی حروف

    براعظم ایشیا میں سب سے پہلے متحرک دھاتی حروف کوریا میں تیار کیے گئے۔ 15 ویں صدی کے وسط کا یہ وہی وقت تھا جب جرمنی میں گٹن برگ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کیا۔

  • ایشیا کے نمونہ جات

    گٹن برگ عجائب گھر

    ایشیا کے نمونہ جات

    ایشیا میں تحریریں اور شبیہیں سب سے پہلے 14ویں صدی کے آغاز میں پرنٹ کی گئیں۔ گٹن برگ میوزیم میں رکھا گیا یہ نمونہ 1797ء میں پرنٹ کیا گیا۔ چینی فلسفی کنفیوشس کے اقوال کے مطابق اس میں انسان کے پانچ بنیادی رشتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔

  • اسلامی کتابی آرٹ

    گٹن برگ عجائب گھر

    اسلامی کتابی آرٹ

    گٹن برگ میوزیم کے اسلامی حصے میں اسلامی کتابی آرٹ کے نادر نمونے رکھے گئے ہیں۔ نویں صدی سے لے کر 20 ویں صدی تک کے یہ نمونے روایتی عربی طرز تحریر کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کپڑے پر لکھی گئیں یہ قرانی آیات نویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں۔

سائنس اور ماحول

  • آسٹریا کا شہر ویانا نمبر1

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    آسٹریا کا شہر ویانا نمبر1

    ویانا میں معیار زندگی کو دنیا بھر میں بہترین قرار دیا گیا ہے۔ یہ درجہ بندی سیاحوں، مقامی باشندوں اور محدود قیام کرنے والے غیر ملکیوں کی آراء کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ان غیر ملکیوں سے پوچھا گیا کہ ان کے لیے بیرون ملک رہنے کے لیے کون سے معیارات اہم ہیں۔ اس طرح 39 معیارات زندگی کا اندازہ لگایا گیا، جن میں سے ایک معیار ثقافتی سرگرمیوں کا ہونا بھی ہے۔

  • سوئٹزر لینڈ کا شہر زیورخ نمبر 2 پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    سوئٹزر لینڈ کا شہر زیورخ نمبر 2 پر

    قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ چار لاکھ کی آبادی والا زیورخ دنیا کے بڑے مالیاتی اور کاروباری مراکز میں سے بھی ایک ہے۔ غیر ملکی اس شہر میں دی جانے والی خریداری کی سہولیات کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ معیار زندگی جاننے کے لیے ہر سال Mercer-Studie نامی ایک سروے کروایا جاتا ہے۔

  • نیوزی لینڈ کا شہر آک لینڈ تیسرے نمبر پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    نیوزی لینڈ کا شہر آک لینڈ تیسرے نمبر پر

    جنوبی نصف کرے پر قیمتی ذاتی کشتیوں کی سب سے بڑی بندرگاہ اسی شہر میں ہے۔ فی کس شہری کے حساب سے دنیا کے کسی شہر میں اتنی زیادہ کشتیاں نہیں ہیں۔ اسی طرح آک لینڈ کو دنیا کا محفوظ ترین شہر بھی کہا جاتا ہے۔

  • جرمنی کا شہر میونخ نمبر 4 پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    جرمنی کا شہر میونخ نمبر 4 پر

    یہاں کا تہوار ’اکتوبر فیسٹ‘ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جرمنی میں قیام کے دوران دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے سب سے اہم اس تہوار میں شرکت ہوا کرتی ہے۔ اس طرح کے بین الاقوامی تہوار بھی شہروں کی درجہ بندی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • کینیڈا کا شہر وینکوور نمبر 5 پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    کینیڈا کا شہر وینکوور نمبر 5 پر

    یہ افواہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ اس شہر میں آپ ایک ہی دن برف پر اسکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں اور گولف بھی کھیل سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ شہر اپنے بہترین موسم کی وجہ سے مشہور ہے۔ شہروں کے درجہ بندی میں وہاں کی آب و ہوا اور موسم کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔

  • عراقی شہر بغداد آخری نمبر221 پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    عراقی شہر بغداد آخری نمبر221 پر

    بغداد سے موصول ہونے والی خبروں میں زیادہ تر خودکش حملوں، کار بم دھماکوں اور ہلاکتوں ہی کا ذکر ملتا ہے۔ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بم دھماکوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔

  • وسطی افریقی جمہوریہ کا شہر بنگوئی 220 ویں نمبر پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    وسطی افریقی جمہوریہ کا شہر بنگوئی 220 ویں نمبر پر

    جب تک روشنی ہے اس دارالحکومت میں مارکیٹ تک جایا جا سکتا ہے۔ لوٹ مار اور ڈکیتیاں یہاں معمول کی بات ہیں۔ یورینیم اور ہیروں کی کانوں کے باوجود بنگوئی دنیا کے غریب ترین ملک کا دارالحکومت ہے۔ عام طور پر غیر ملکیوں کو بنگوئی سے باہر نقل و حرکت سے منع کیا جاتا ہے۔

  • چاڈ کا شہر اینجامینا 219 ویں نمبر پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    چاڈ کا شہر اینجامینا 219 ویں نمبر پر

    اینجامینا کی مرکزی مارکیٹ میں بھی آپ کو صرف پھل اور سبزیاں ہی نظر آتی ہیں۔ یہاں کی 85 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ معدنی تیل کے باوجود اس ملک کا شمار پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ خانہ جنگی کی وجہ سے یہاں کا اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔

  • ہیٹی کا شہر پورٹ او پرانس 218 ویں نمبر پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    ہیٹی کا شہر پورٹ او پرانس 218 ویں نمبر پر

    یہ خاتون چاولوں کا ایک تھیلا اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ برسات کا موسم ہے اور یہاں اس موسم میں کئی دیگر بیماریوں سمیت ہیضے کی وباء بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ دو برس پہلے آنے والے زلزلے کے بعد ابھی تک یہاں کی صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔

  • سوڈانی دارالحکومت خرطوم 217 ویں نمبر پر

    بہترین یا بدترین، شہروں کا معیار زندگی

    سوڈانی دارالحکومت خرطوم 217 ویں نمبر پر

    ان بچوں کے والدین کا تعلق جنوبی سوڈان سے ہے لیکن ان کی پیدائش جمہوریہ سوڈان کے دارالحکومت میں ہوئی ہے۔ اب یہ اس انتظار میں ہیں کہ وہ نو آزاد جنوبی سوڈان کب جا سکیں گے۔ جنوبی سوڈان گزشتہ برس جولائی سے سوڈان سے علیحدہ ہو کر ایک خود مختار ملک بن چکا ہے۔ خرطوم میں ہونے والی چوریاں اور فسادات غیر ملکیوں کے لیے خطرہ ہیں۔


    مصنف: | ایڈیٹر: