1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

شام میں ہلاکتوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری

بھارت ایران سے کم تیل خریدے گا

یونان میں دوبارہ عام انتخابات جون میں

بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کے قتل سے متعلق ناول پر پابندی

محبت کا لازوال کردار انارکلی، ممبئی کی دیواروں پر

ڈسلڈورف اب فرسٹ ڈویژن بنڈس لیگا میں

بھارتی انڈر ورلڈ کے دو اہم ارکان پر امریکی پابندیاں

حالات حاضرہ

معاشرہ

  • نکبہ یا تباہی

    یوم نکبہ

    نکبہ یا تباہی

    اسرائیلیوں کے لیے یہ جشن کا دن ہے تاہم فلسطینی 15 مئی کو نکبہ یا تباہی کا دن قرار دیتے ہیں۔ سن 1948ء میں اسی روز اسرائیل نے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اس روز کو لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے کے وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ مہاجرین اس روز علامتی طور پر چابیوں کے ہمراہ احتجاج کرتے ہیں، جن سے مراد ان کی واپسی کے منتظر ان کے گھر ہیں۔

  • ایک آزاد مملکت

    یوم نکبہ

    ایک آزاد مملکت

    19 ویں صدی کے اختتام پر یورپ میں بسنے والے یہودیوں نے فلسطین میں ایک آزاد یہودی ریاست کے قیام کا مطالبہ شروع کیا تھا۔ اس تحریک کے ایک اہم رہنما تھیوڈور ہیرسل تھے، جنہوں نے اپنی کتاب ’یہودی ریاست‘ میں اس مملکت کے خدوخال بیان کیے تھے۔ اس کی وجہ نازی جرمنی میں یہودی مخالف جذبات میں نمایاں اضافہ تھا۔

  • ایک ریاست

    یوم نکبہ

    ایک ریاست

    فلسطین ایک طویل عرصے تک سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ 1917ء میں برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اُس سے پانچ برس قبل لیگ آف نیشنز نے باقاعدہ طور پر اس علاقے پر برطانوی راج کی منظوری دیتے ہوئے ’یہودیوں کے لیے گھر‘ کا خیال پیش کیا۔ اس خیال کی تائید برطانیہ نے بھی کی۔

  • عرب باغی

    یوم نکبہ

    عرب باغی

    بڑے پیمانے پر ہجرت کی وجہ سے عربوں اور یہودیوں کے درمیان کشیدگی شدید بڑھ گئی، جس کی وجہ سے فریقین میں خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ 1936ء میں عرب آبادی نے بغاوت کر دی۔ تاہم تین برس بعد برطانوی فوج نے اس بغاوت کو کچل دیا۔

  • کنگ ڈیوڈ ہوٹل پر حملہ

    یوم نکبہ

    کنگ ڈیوڈ ہوٹل پر حملہ

    یروشلم میں واقع ہوٹل کنگ ڈیوڈ فلسطین میں برطانوی سرکار کے ہیڈ کوارٹر کا کام دیتا تھا۔ تاہم 22 جولائی سن 1946ء کو دہشت گرد گروپوں نے دھماکہ خیز مواد استعمال کر کے اس ہوٹل کو تباہ کر دیا۔ اس واقعے میں 91 افراد ہلاک ہوئے۔

  • اقوام متحدہ کا تقسیمی منصوبہ

    یوم نکبہ

    اقوام متحدہ کا تقسیمی منصوبہ

    سن 1947ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک عرب اور ایک یہودی ریاست میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت یروشم کو بین الاقوامی انتظام میں دیا گیا تھا۔ یہودیوں نے اس منصوبے کو منظور کر لیا جبکہ عربوں نے اس تقسیم کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اعتراض کیا گیا کہ علاقے میں یہودی آبادی ایک تہائی سے بھی کم ہے جبکہ اسے اس علاقے کا آدھے سے زیادہ حصہ دیا جا رہا ہے۔

  • دیر الیاسین کا قتل عام

    یوم نکبہ

    دیر الیاسین کا قتل عام

    فلسطین پر حکومت کے لیے عربوں اور یہودیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ نو اپریل سن 1948ء کو عرب گاؤں دیر الیاسین میں ایک یہودی پارلیمانی گروپ پر حملہ کیا گیا، جس کی سربراہی مستقبل کے وزیر اعظم Menachem Begin کر رہے تھے۔ اس واقعے میں تقریباً ایک سو افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔

  • نئی ریاست کا قیام

    یوم نکبہ

    نئی ریاست کا قیام

    14 مئی سن 1948ء کو فلسطین کے لیے برطانیہ کو دیے گئے مینڈیٹ کا اختتام ہوا۔ اسی روز ڈیوڈ بن گوریان کی طرف سے اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ ہولوکاسٹ کے تین برس بعد اور صدیوں مذہبی تفریق کا نشانہ بننے والے یہودیوں کے لیے نئی ریاست وجود میں آ گئی۔ اس کے چند ہی گھنٹوں بعد ہمسایہ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کر دیا گیا۔

  • عرب اسرائیلی جنگ

    یوم نکبہ

    عرب اسرائیلی جنگ

    عرب فورسز کی جانب سے اسرائیلی فوج پر حملے شروع ہوئے۔ تاہم مشرقی یورپ سے اسرائیل کے لیے اسلحے کی درآمد نے اسرائیلی فوج کو تقویت دی۔ عرب فوج کے پاس اسلحے کی کمی رہی اور جلد ہی وہ جارحانہ پوزیشن کی بجائے دفاعی پوزیشن پر آ گئے۔

  • ہجرت اور نقل مکانی

    یوم نکبہ

    ہجرت اور نقل مکانی

    عرب اسرائیلی جنگ میں ایک کے بعد ایک عرب علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آتا چلا گیا۔ اس کے نتیجے میں عرب علاقوں سے لاکھوں افراد کو ہجرت کرنا پڑی۔ کئی سو عرب دیہات مکمل طور پر خالی ہو گئے۔ سن 1949ء کے وسط میں عرب اسرائیل فائر بندی معاہدے تک یہی صورتحال جاری رہی۔

  • مہاجرین کی حالت زار

    یوم نکبہ

    مہاجرین کی حالت زار

    سات لاکھ فلسطینیوں کو شام، لبنان، اردن، غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں قائم مہاجر بستیوں میں پناہ لینا پڑی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ان مہاجرین کی دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کاری کی اپیل کی گئی۔ یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہو پایا ہے۔ اس وقت بھی چار ملین فلسطینی مختلف مہاجر بستیوں میں قیام پزیر ہیں۔

  • گھروں کی تباہی

    یوم نکبہ

    گھروں کی تباہی

    اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دے کر قانونی درجہ دے دیا۔ فلسطینوں کی ہجرت کے بعد خالی ہو جانے والے علاقوں میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر شروع کر دی گئی۔ اسرائیل سرکاری سطح پر نکبہ میں اپنے کسی بھی کردار کی تردید کرتا ہے۔


    مصنف: Michael Hartlep/at | ایڈیٹر: aa

سائنس اور ماحول

  • رو نمائی

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    رو نمائی

    آج افغانستان میں بہت سی خواتین میڈیا میں سامنے آ رہی ہیں۔ صحافی اور پروگرام پریزنٹر خواتین منظر عام پر نظر آ رہی ہیں۔ ایک دہائی قبل یہ ایک ناقابل تصور بات تھی۔

  • ووٹنگ کے لیے استعمال میں لائے جانے والے رنگ کی پہچ

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    ووٹنگ کے لیے استعمال میں لائے جانے والے رنگ کی پہچ

    2002ء میں پہلی بار لویا جرگہ تک خواتین پہنچیں۔ طالبان کی طرف سے قاتلانہ دھمکیوں کے باوجود بہت سی خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا۔ انہوں نے خود کو سیاسی طور پر منظم کیا اور ووٹ دیے۔ الیکشن میں دھاندلی سے بچنے کے لیے ووٹ دینےکے بعد اُن کی انگلیوں کو رنگ دیا گیا۔

  • مردوں کے دائرہ اقتدار میں

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    مردوں کے دائرہ اقتدار میں

    خاطول محمد زادے مصروف عمل۔ یہ افغانستان کی پہلی خاتون پیراشوٹر ہیں۔ اپنے ساتھیوں کی طرف سے آج وہ ہم پلہ سمجھی جا رہی ہیں۔ یہ ایک مشکل جدو جہد تھی۔ وہ کہتی ہیں،’ پھر بھی میں جیت گئی‘۔

  • لیڈی ڈاکٹر:جن کی بہت زیادہ ضرورت ہے

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    لیڈی ڈاکٹر:جن کی بہت زیادہ ضرورت ہے

    افغانستان میں ہسپتالوں اور طبی عملے کا سخت فقدان ہے۔ بہت ہی کم خواتین ڈاکٹر بن پاتی ہیں۔ اکثر صوبوں میں ایک لاکھ مریضوں کے لیے ایک لیڈی ڈاکٹر ہوتی ہے۔

  • جنسیت ایک ٹابو موضوع

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    جنسیت ایک ٹابو موضوع

    بہت سے جوڑوں کے لیے فیملی پلانگ ایک اجنبی اصطلاح ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ دس برسوں میں حکومت اور امدادی اداروں نے جنسی موضوعات کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاص طور سے خواتین میں۔

  • بیرون خانہ

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    بیرون خانہ

    دریں اثناء ہر تیسری افغان خاتون کام کر رہی ہے۔ اکثر انہیں تنہا اپنے خاندان کی کفالت کرنا پڑتی ہے۔ یہ خاتون فوجیوں کا یونیفارم سیتی ہیں۔ ایک محفوظ اور نسبتاً اچھی اجرت والی محنت۔

  • ہزاروں سال پرانا ہُنر

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    ہزاروں سال پرانا ہُنر

    جلال آباد میں خواتین اب بھی قالین بافی کا کام کرتی ہیں

  • ووٹنگ ہلپر

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    ووٹنگ ہلپر

    . کابل میں انتخابات کے نتائج کی جانچ پڑتال۔ یہ خاتون افغانستان کے روزگار سے متعلق خواتین کے کوٹے کے نئے قوانین سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کام کر رہی ہیں۔ نئے قوانین میں حکومتی پوسٹ پر کام کے لیے خواتین کا 25 فیصد کوٹا مختص کیا گیا ہے۔ بہت سی افغان عورتوں کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

  • ایک خاتون اٹارنی

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    ایک خاتون اٹارنی

    مغربی افغانستان میں اس عہدے پر فائض پہلی خاتون ماریا بشیر۔ زیادہ ترافغان مرد انہیں اب تک سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ماریہ بشیر کے ساتھ ہر وقت باڈی گارڈز رہتے ہیں۔ ان کے دشمن محض طالبان نہیں ہیں۔

  • مستقبل

    دس سال بعد افغان خواتین کو زیادہ آزادی میسر

    مستقبل

    افغانستان کے عوام اس سے غیر واقف۔ بہت سی لڑکیاں اور خواتین خود سے سوال کرتی ہیں کہ اگر طالبان دوبارہ اقتتدار میں آ گئے تو ان کا کیا بنے گا۔ انہیں ڈر ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں حاصل کی ہوئی کامیابیوں پر پانی پھر جائے گا۔ اس وقت دو ملین بچیاں اسکول جا رہی ہیں۔


    مصنف: Kishwar Mustafa