1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شطرنج کا تاج پھر بھارت کے سر

31 مئی 2012

بھارت کے وشواناتھ آنند نے بدھ کے روز ورلڈ چیس ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ دفاعی چیمپیئن آنند نے اپنے اسرائیلی حریت بوریس گلفنڈ کو شکست دے کر یہ اعزاز اپنے پاس رکھا۔

https://p.dw.com/p/1557X
تصویر: AP

یہ مقابلہ چار گھنٹوں سے زائد دیر تک جاری رہا اور اس دوران جذبات کا عالم یہ تھا کہ دونوں شطرنج باز اپنے اپنے ناخن چبا رہے تھے۔ تین گیمز پر مشتمل اس مقابلے کے دوسرے گیم میں گلفنڈ کی ایک غلطی نے اس میچ کے نتیجے کا رخ متعین کر دیا تھا۔

ٹائیگر آف مدراس کہلانے والے آنند نے اس مقابلے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’میرے خیال میں اس وقت میں صرف راحت محسوس کر رہا ہوں۔ ذہنی تناؤ بہت زیادہ ہے، اس لیے خوش نہیں ہو سکتا، ہاں مگر اس وقت مجھے ریلیف ملا ہے۔‘‘

آنند نے کہا کہ یہ ایک ’تناؤ سے بھرپور‘ مقابلہ تھا۔ ’’آج کوئی بھی دعویٰ کرنا بہت مشکل تھا۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے اعصاب نے میرا قدرے زیادہ بہتر ساتھ دیا۔‘‘

شطرنج بازی کی یہ سیریز ماسکو کی تریتیاکوف گیلری میں منعقد کی گئی تھی۔ شائقین کے مطابق اس کھیل کو دیکھ کر سن 1984-85میں گیری کاسپروف اور اناتولی کارپوف جیسے شہرہ آفاق کھلاڑیوں کے درمیان اعصاب شکن مقابلے کی یاد تازہ ہو گئی۔

واضح رہے کہ ماسکو کی تریتیاکوف گیلری میں سن 1984-85میں گیری کاسپروف اور اناتولی کارپوف کے درمیان ہونے والا مقابلہ دونوں کھلاڑیوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے موقوف کر دیا گیا تھا۔

بدھ کے روز ہونے والے مقابلے میں اسرائیلی کھلاڑی نے انتہائی نفیس کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند بھرپور چالیں چلیں اور کسی حد تک وہ آنند کے دفاع کو نقصان پہنچانے میں بھی کامیاب رہے۔ تاہم عمومی طور پر ایسے مقابلوں میں نیلا لباس زیب تن کر کے بساط تک پہنچنے والے آنند نے نہایت دلجمعی سے مقابلہ کیا اور کسی بھی موقع پر دل چھوڑتے دکھائی نہ دیے۔

مقابلے کے دوران کئی مواقع پر اسرائیلی کھلاڑی گیلفنڈ اپنے ہاتھوں سے سر سہلاتے نظر آئے جب کہ کچھ مواقع پر اپنے پوزیشن پر غور کرنے کے لیے وہ بساط سے ہٹ کر واک کرتے بھی دکھائی دیے۔

at/aba (AFP)